گھٹیا پن کا بڑا پن تحریر : محمد اعظم عظیم اعظم

آج جہاں کئی ماہ سے سابق وزیراعظم نوازشریف کی زبان سے ©’مجھے کیوں نکالا؟ ‘ سُنتے سُنتے قوم کے کان پک گئے ہیں تووہیں ارضِ مقدس پاکستان میں عا م انتخابات بھی ہونے میں چند ماہ ہی رہ گئے ہیں اورالیکشن سے قبل بہت سے فتنے نما نئے ایشوز بھی پھن پھلائے اور سراُٹھائے سامنے آ رہے ہیں جن کی بے وقت کی راگنی اپنے اندر بہت سے سوالات کو جنم دے رہی ہے مگر اَب ایسے میں غالب گمان یہی ہے کہ جیسے اِن فتنوں کے پیچھے جیت کی اُمید لگائے ایک بڑاسیاسی گروہ ہے جو اِس مرتبہ کئی سیاسی فتنوں کو ہوا دینے کے ساتھ مُلک میں نئے صوبے بنانے کا نعرہ لگا کر اپنی جیت کو یقینی بنا نے کے پروگرام لئے الیکشن کے اکھاڑے میں اُترنا چاہ رہاہے چلیں تھوڑی دیر کو مان بھی جائیں کہ مُلک میں نئے صوبے کا قیام اتنا آسان نہیں ہے جتنا کہ کچھ لوگ سمجھ رہے ہیں مگر وہیںیہ بھی تو ٹھیک ہے کہ جب مُلک میں چارصوبوں کے ساتھ ایک اکائی ستر سالوں سے قائم ہے تو پھر چار سے پانچ اور پانچ سے چھ اور سات صوبوں کے ساتھ بھی اکائی قائم رہ سکتی ہے سو اَب اِس بنا پر یہ بہت ضروری ہوگیاہے کہ مُلک میں جنوبی صوبہ پنجاب کی طرح صوبہ سندھ میں کراچی کو بھی صوبے کا درجہ دے کر کے پی کے میں بھی کئی نئے صوبے بنا ئے جا ئیں تا کہ انتظامی اُمور کو بہتر انداز سے چلایاجاسکے۔
جبکہ اِس سے اِنکار نہیں ہے کہ آج مُلک کی دوبڑی سیاسی جماعتیں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی عوام الناس میں اپنا وقاراور اعتماد ختم کرچکی ہیں جبکہ پی ٹی آئی اپنے بچگانہ پن کی وجہ سے خود کو ابھی تک عوام الناس میں اُس طرح متعارف نہیں کراسکی ہے جس طرح 21کروڑ آبادی والے مُلک کے سنجیدہ اور سیاسی شعور رکھنے والے شہری پی ٹی آئی سے اُمید لگائے بیٹھے ہیں کیوں کہ ن لیگ اور پی پی پی کو تو عوام الناس نے متوقع الیکشن سے پہلے ہی اِن کے ظاہر و باطن سیاہ کرتوتوں کی وجہ سے رد کردیاہے تووہیںعوام پی ٹی آئی سے بھی اِس کے غیرسنجیدہ سیاسی رویوں کی وجہ سے کچھ بہتری کی اُمیدنہیںرکھتے ہیں سوچیں اگر یہی تینوں جماعتیں پھر الیکشن لڑتی ہیں اور یہی تینوں مل کر وفاق اور صوبوں میں اپنی حکومتیں بنالیتی ہیں تو پھر مُلک اور قوم کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔
تاہم اِس میں شک نہیں کہ آج سندھ اپنی تاریخ کے انتہائی بدحالی کے دور سے گزررہاہے اِسے اِس حال سے دوچار کرنے والا کوئی اور نہیں ہے جان لیجئے کہ صوبے سندھ کی تباہی کے ذمہ دار صرف اور صرف زرداری اور پی پی پی والے ہیں جنہوں نے گزشتہ دس سالوں کے دوران سوائے اپنی خوشحالی کے صوبے کے گاو ¿ں دیہاتوں اور کراچی سمیت دیگر شہروں کی ترقی کے لئے ایک رتی کا بھی کام نہیں کیا ہے جس سے عوام کا زرداری اور پی پی پی پر سے اعتماد ختم ہوگیاہے اِس کے جہاں اور بہت سے محرکات ہیں تو اِن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ صوبے کے بجٹ اور اِس کے وسائل پر پی پی پی اور زرداری نے پنجے گاڑ رکھیں ہیں تو وہیں وفاق نے بھی صوبہ سندھ اور شہرکراچی کوکھنڈربنانے میں اپنا حصہ ثوابِ دارین سمجھ کر بڑھ چڑھ کر ڈالاہے ؛ آپ کیا اِسے سیاسی گھٹیاپن کا بڑاپن نہیں کہیں گے؟ ۔
غرضیکہ آج وفاق اور سندھ کی صوبائی حکومت نے مل کر صوبے کوبدحالی سے دوچار کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اِس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ وفاق اور صوبائی انتظامیہ کی سیاسی چپقلش میں سندھ صوبے کے بنیادی ضرورتوں سے محروم عوام پس رہے ہیں مگر لگتاہے کہ دونوں کو اپنی سیاست چمکانے اور اگلے متوقع انتخابات میں اپنی سیاسی نمبر اسکورنگ سے اپنی جیت کی پڑی ہے یعنی دوبڑے سیاسی بھینسوں کی لڑائی میںمینڈک کچلے جارہے ہیں۔
بہر کیف ،یہاں راقم الحرف کو کہنے دیجئے کہ کیا پہلے ہی سیاست دانوں نے مُلک اور قوم کا کچھ کم ستیاناس کیا ہے؟ آج کل جو مُلک میں نادیدہ وطلسماتی قوتوں اور خلائی مخلوق کا بھی تذکرہ زور پکڑ گیاہے ارضِ مقدس کو کرپٹ حکمران اورسیاستدان چھوڑیں گے توکوئی دوسرا مُلک و قوم کا بیڑاغرق کرنے کا بیڑااٹھائے گا۔
سوچیں، ایسے میں جب پورے مُلک کے چپے چپے پر کرپٹ حکمرانو اور سیاستدانوں اور اِن چیلے چانٹوں نے اپنے شکنجے گاڑ رکھے ہیں تو بھلا اِس صورتِ حال میں کسی اور کا بس کیسے چل سکتاہے؟ کہ کہیں سے کوئی نادیدہ و طلسماتی قوت اور خلائی مخلوق مداخلت کرے، قومی خزا نے کو لوٹ کھا نے اور مُلک و قوم کوپستی اور گمنامی میںدھکیلنے والے ہمارے سِول جمہوری حکمران اور سیاستدان ہیں اِن کے ہوتے ہوئے کو ئی آمر نما نادیدہ اور طلسمانی قوت یا خلائی مخلوق کچھ نہیں کرسکتی ہے اگربالفرض کسی نادیدہ قوت کو کچھ کرنا بھی پڑاتو اِس کا ہاتھ اِنہیں کرپٹ حکمرانو ، سیاستدانوں اور اِن کے چیلے چانٹوں کے گریبانوں تک ہی جائے گا ۔
آج کل نااہل قرار دیئے گئے سابق وزیراعظم ا ورن لیگ کے سربراہ محمد نوازشریف اور اِن کی فیملی اینڈ کو سیاست میں گھٹیاپن میںبڑاپن کا جیسا مظاہرہ کررہی ہے اِس کی بھی مثال پچھلے سترسالوں میں نہیں ملتی ہے کوئی سوچ بھی نہیں سکتاہے کہ تین بار وزیراعظم کے منصب ِخاص پر فائز رہنے والے اپنی نااہلی کے فیصلے کے بعد اِس درجے نیچے بھی آسکتے ہیں جہاں پہنچ کر کوئی غیرت مند زندہ رہنا گوارہ نہیںکرتاہے مگر اَب اِسے کیا ؟کیا جائے جوسیاست میں خود روجھاڑی کی طرح آسیبوں کی گود کا پلا ہواور جس کی گھٹی میں ہی سیاسی گھٹیاپن رسا بسا ہو۔
اگرچہ آج وقتِ نزع سے گزرتی ن لیگ کی رواں حکومت نے پانچ سالوںمیں عالمی مالیاتی اداروں سے جتنے قرضے لئے ہیں آئندہ اِس کا خمیازہ توآنے والی حکومت اور پاکستا نی قوم کو ہی بھگتناپڑے گا قوم کو قرضے لے کر گروہی رکھانے والی ن لیگ کا یہ کہنا ہے کہ یہ اپنے قیام کے اول روز سے ہی سیاسی تناو ¿ کا شکاررہی اِسے سکون سے کام ہی نہیں کرنے دیا گیا تویہ کیا کچھ مُلک اور قوم کے لئے بہتر کرتی اِس کی ٹانگ کھینچی گئی یوں جیسے جیسے دن ہفتے اور ہفتے مہینے اور مہینے سال سے سالوں میں بدلتے رہے یہ معاشی و اقتصادی اور سیاسی طور پرمسائل کا شکار ہوتی چلی گئی یوں آج پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت جاتے جاتے بھی نفسیاتی اور سیاسی دباو ¿ تلے ہی دھنسی ہوئی ہے اور اَب جب کہ اِس کی مدت کو ختم ہونے میں چند ہی روز رہے گئے ہیں تو یہ عوام کو لوڈشیڈنگ اور مہنگائی سمیت کسی بھی معاملے میںکوئی ریلیف نہیںدے سکی ہے مگرافسوس کی بات ہے کہ اِس پربھی ن لیگ کا آج بھی یہی دعویٰ ہے کہ ہم نے عوام کو اِس کے خوابوں کی حسین تعبیر دے دی ہے اگلا اقتدار بھی ن لیگ کا ہے اِس کایہ کہنا اور ہمارا یہ سُننا انتہائی معنی خیز لگتا ہے؟؟؟۔
محمد اعظم عظیم اعظم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *