مزدور کا سہانہ خواب تحریر: محمد یوسف جامی

عجیب منظر تھا پتا چلا آج یوم مئی ہے۔مزدوروں کا دن ۔۔اور مزدوروں میں ایسا جوش و خروش پہلے کبھی ارضِ پاکستان کے باسیوں کو نصیب نہ تھا ۔خیال آیا یومِ مئی تو ہر سال آتا ہے اور مزدور اپنے آقاوں کے نعرے لگا کر چلے جاتے ہیں اور سالہا سال سے یہ ہی تو روایت تھی مر اب اچانک کیا؟دلچسپی نے اپنے نقوش مزید گہرے کیئے تو میں بھی ایک طرف کھڑا ہو کر منظر سے لطف اندوز ہونے لگا۔
دیکھتا ہوں کہ ایک بہت بڑی جلسہ گاہ ہے۔آج اسٹیج پر نقیب فیکٹری کی ہیڈ کلرک ”تاج دین مالک ”ہیں۔سٹیج پر مختلف کیٹیگری کے مزدور بطور مہمانانِ گرامی تشریف فرما ہیں،کریدنے پر پتا چلا کہ آج کی اس پروقار تقریب کے مہمانِ خصوصی فیکٹری کے ”مالی بابا”ہیں۔ناقابلِ یقین منظر تھا کہ فیکٹری کا مالک مزدور زندہ باد کے نعرے لگا رہا تھا اور بڑی بڑی کا روباری شخصیات زندہ باد کہہ کر نعروں کے جواب دے رہے تھے۔تقریب کا آغاز تلاوت و نعت رسول مقبول سے ہوا اور استقبالیہ کلمات فیکٹری کے مالک نے کہے ، اور یہ حقیقت ہے کہ مالک کے منہ سے اپنے مزدور کی لئے ایسے تعریفی کلمات کم از کم میں نے تو کبھی نا سنے تھے ۔دل خوشی کے مارے چھلانگیں مار رہا تھا کہ میں ایک مزدور ہوں اور یہ میرا دن ہے اور میرے افسرحضرات میرا دن منانے کو یہاں اکٹھے ہیں۔مختلف مزدوروں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور سب مزدوروں کی تقاریر میں ایک بات مشترک تھی کہ اتحاد میں برکت ہے۔ایمانداری سے اپنے فرائض کی انجام دہی میں ہی ملک و قوم کے ساتھ ساتھ ہماری انفرادی زندگیوں کی خوشحالی کی ضمانت ہے۔اورسینئر مزدوروں نے جونئرز کو ایک نصیحت کی کہ اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنے فرائض کو کبھی مت بھولو،فرض سے غافل لوگ ، کبھی بھی اپنے حق کے لائق نہیں ہوتے۔ آخر میں اظہارِ خیال کے لئے فیکٹری کے مالک کو دعوت دی گئی ۔اور میرے لئے یہ سب کچھ ناقابل یقین تھا کہ کیسے وہ فیکٹری اونر مزدوروں کی محنت کی ستائش کر رہا تھا اور ان کی جانفشانی اور بے لوثی پر نچھاور ہوتا جا رہا تھا۔فیکٹری اونر نے اپنی فیکٹری کی سال بھر کی ترقی کو اپنے مزدوروں کی مرہونِ منت قرار دیا اور ان سب کے لئے انعام کے طور پر بہت بڑے بونس کا اعلان کیا۔سب مزدور خوشی نے نہال تھے اور اختتامی کلمات میں انہوں نے عہد کیا کہاس اعزاز کو کہ
”مزدور اللہ کا دوست ہے”
ہمیشہ برقرار رکھیں گے۔نقیبِ محفل اعلان کرتے ہیں کہ پر تکلف کھانے کا اہتمام ہے مزدور حضرات سے گزارش ہے کھانا تناول فرمائیں۔ اور پھر جو ہوا وہ تہ شاید کبھی سوچا بھی نہیں جا سکتا ۔۔ گزیٹڈ افسران اور فیکٹری اونرز خود مزدوروں کو کھانا پیش کرتے رہے۔حیرانگی و خوشی اپنے عروج کو تھیں مگر دل سجدہِ شکر کرنا چاہتا تھا اور کہنا چاہتا تھا کہ ”اے اللہ! تیرا شکر ہے کہ تونے ان مزدوروں کی سن لی۔”
میں خوشی میں چیخ چیخ کر کہنا چاہتا تھا کہ ”اے قائداعظم! دیکھئے آپ ایسا پاکستان ہی چاہتے تھے نا جہاں اخوت ہی اخوت ہو تو ہم نے آج وہ پاکستان پا لیا”
سجدے سے سر اٹھا نہ تھا کہ فون کی گھنٹی بج گئی ۔ہربڑاہ کر فون کان کو لگایا تو ایک کرخت آواز کا سامنا تھا۔جو چلا رہے تھے رمضان آج مزدور ڈے کی چھٹی ہے تم گاڑی لے کر آجاؤ بچوں نے پکنک پر جانا ہے ۔حقیقت میں واپس آنے کے بعد میں خود سے بس اتنا ہی کہ
ٍٍٍ ” دل کے بہلانے کو یہ خواب اچھا ہے”

محترم قارئین!
جس معاشرے میں مزدور کو’کمی’ اور کام کرنے کی مشین سمجھا جاتا ہو وہاں مزدور ڈے منانا تہذیب کے ملائم چہرے پر کسی گالی سے کم نہیں۔ ریاست اس دین کے نام پر تشکیل کی گئی ہو جس دین میں مزدوروں کو ان کی اجرت پسینہ خشک ہونے سے پہلے دینے کا حکم ہو اور اس معاشرے کا حال یہ ہو کہ پسینہ خشک ہونا تو کجا کسی مزدور کا خون بھی بہہ جائے تو کہاں کا مزدور ڈے اور کہاں کا اعزاز؟ جب اس کی جان کی حرمت کا ہی خیال نہیں۔ ہم نے اپنے دین کی تعلیمات بھول کر انگریزوں کے دن تو اپنا لئے مگر ان کی سی انسانیت نا اپنا سکے۔آپ جب مزدور ڈے کی چھٹی انجوائے کرتے کہیں باہر نکلیں تو سڑک کے کناروں پر بیٹھے مزدور ڈے نظر آئیں گے ان سے پوچھئے گا چھٹی کیسی گزری؟ اور جب جوابا وہ کہیں گے نا کہ” صاحب! کوئی کام نہ ملا تو بچوں پر فاقہ گزرے گا ”
تو اس جملے کی کیفیت کو سمجھئے گا۔۔ اس کے الفاظ میں چھپا درد محسوس کیجئے گا ۔۔اس نے جس ضبط اور ہمت سے یہ بات آپ سے کی ہوگی اس کی گہرائی ماپیئے گا، یہ بھی نہ کر پائیں تو اس کی آنکھوں کے پپوٹوں میں چھپی نمی کو محسوس کیجئے گا۔ اور اگر کر پائیں تو دعا کیجئے گا کہ مزدور کا جو سہانا خواب اوپر بیان کیا گیا ہے اس کے شمندہ تعبیر ہونے ورنہ کم از کم پاکستان میں مزدورکی تاریخ اس شعر میں ہی بیان ہوجائے گی کہ

؂تو قادرِ مطلق ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *