مزدور کی عظمت اور ہمارا معاشرتی رویہ تحریر: اقبال زرقاش / فکرِ فردا

ہمارے معاشرے میں تن آسانی اس قدر عام ہو گئی ہے کہ انسان چاہتا ہے کہ بغیر کچھ کام کئے اسے سب کچھ مل جائے۔یہی نظریہ ہے جس کے تحت ہمارے معاشرے میں بھکاریوں کی تعداد روز بروز بڑھی جا رہی ہے بلکہ یہ لوگ ایک منظم پیشے کے انداز میں کرتے ہیں۔ان کی آمدن اس قدر زیادہ ہوتی ہوتی ہے کہ بسا اوقات امیر لوگ بھی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ایسے لوگ جو محض بھیک مانگ کر گزر اوقات کرتے ہیں وہ معاشرے کے لئے وجہ شرم ہیں۔کوئی زندہ قوم ایسے وجود برداشت نہیں کر سکتی دوسرے ممالک سے آنے والے لوگ جب ہمارے ہاں بھلے چنگے اور ہٹے کٹے لوگوں کو مانگتے دیکھتے ہیں تو ہمارے بارے میں ان کے نظریات عجیب و غریب ہوتے ہیں۔کیونکہ ہم جس پاک مذہب کے پیرو کار ہیں اس کے ہادی ﷺ نے ہمیں محنت ہی کی تلقین کی ہے۔آپﷺ نے ایک شخص سے فرمایا کہ تمہارے پاس جو کچھ ہے اسے بیچ کر کلہاڑا لاؤ۔آپ ?ﷺنے اپنے دست مبارک سے اس کلہاڑے میں دستہ ٹھوکہ اور اسے کہا کہ جنگل سے لکڑیاں کاٹو اور بیچو یہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ جب تم قیامت کے دن اٹھوتو تمہارے چہرے پر بھیک مانگنے کی ذلت کا داغ نمایا ں ہو۔
گویا تن آسانی دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے والا اور بھیک مانگنے والا فی الحقیقت ذلیل اور رسوا ہے۔اور اس کے مقابلے میں اپنے ہاتھ سے محنت کرنے والا اور کمانے والاعظیم ہے۔رسول پاک ﷺ کی خدمت میں ایک صاحب حاضر ہوئے ان کے ہاتھوں پر سیاہی کے نشان تھے۔آپ نے فرمایا کہ تمہارے ہاتھوں پر کیا لکھا ہوا ہے۔اس نے کہا حضورﷺ میں پتھر کوٹنے کا کام کرتا ہوں اور میرے ہاتھو ں پر سیاہ گٹے سے پڑ گئے ہیں۔حضور ﷺ اُٹھے اور آپ نے اسکے ہاتھوں کو بوسہ دیا۔یہ قدر قیمت ہے ایک مزدورکے ہاتھوں کی، بد قسمتی ہے آج ہمارے معاشرے میں مزدور کو حقارت سے دیکھا جاتا ہے۔کیونکہ ہمارا معاشرہ مکمل طور پر مادی معاشرہ ہو گیا ہے ہر شے پیسے کے گرد گھومتی ہے۔یہاں تک کہ انسان مشرف بھی زر وسیم ہی کے پیمانے سے ناپا جاتا ہے۔جس کے پاس جس قدر دولت ذیادہ ہے عشرت کے سامان وافر ہیں۔نوکر چاکر اور روپے پیسے کی ریل پیل ہے وہی قابل عزت سمجھا جاتا ہے خواہ وہ دینی قدروں سے کتنا ہی دور کیوں نہ ہو اور اخلاق لحاظ سے کتنا ہی کم تر کیوں نہ ہو اگر حقیقت پسند نگاہوں سے دیکھا جائے تو ایک مزدور عظیم ہے۔کیونکہ وہ کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتا بد عنوانی کا مرتکب نہیں ہوتا وہ ایک خود دار انسان ہے وہ کاروبار میں سچ اور جھوٹ اور جھوٹ کو سچ نہیں بناتا وہ کسی کو دھوکا نہیں دیتا اپنا خون پسینہ ایک کرتا ہے اور اپنے بال بچوں کا پیٹ پالتا ہے ایسے ہی لوگوں کی عظمت مسلمہ ہوتی ہے اور ایسے ہی لوگ اس قابل ہیں کہ ان کے ہاتھوں کو بوسہ دیا جائے کیونکہ خود خالق کائنات بھی ایسے انسانوں سے پیار کرتا ہے یہی وہ لوگ ہیں جن کی محنت سے تہذیب کا چہرا نکھرتا ،معاشرے میں حسن آتا اور امیروں کو آسائش کی نعمتیں ملتی ہیں۔
بظاہر ایک امیر شخص کی زندگی پر کشش محسوس ہوتی ہے یوں لگتا ہے کہ وہ سونے چاندی میں کھیلتا ہے زرق برق زندگی گزارتا ہے اور اطلس و کم خواب میں تلتا ہے۔مگر زرا قریب ہو کر دیکھا جائے تو اس کی زندگی قدرے دردناک ہوتی ہے کہ آپ اس کا اندازہ نہیں کر
سکتے۔اگر آدمی حلال روزی کمائے تو اس کی زندگی میں آسودگی اورآسائش تو آ سکتی ہے۔تعیش اور اسراف نہیں۔جتنے لوگ عیش و عشرت کے دلدادہ ہوتے ہیں اور اسراف ان کی فطرت میں ہوتا ہے اور معمولی معاشرتی تقاریب پر کروڑوں روپے صرف کرتے ہیں۔یہاں تک کہ ہزاروں روپے آتش بازی میں اڑاتے ہیں بلکہ پھونکتے ہیں ان لوگوں کے پاس کالا دھن ہوتا ہے حرام کی کمائی ہوتی ہے اور ان کی زندگی بد عنوانیوں سے عبارت ہوتی ہے نتیجہ معلوم کہ یہ بد عنوانیاں ان کے شب و روز سے اطمینان جیسی دولت چھین لیتی ہے اور وہ ذہنی مریض ہو جاتے ہیں اور ان کے جسم کی دیوار کھوکھلی ہو جاتی ہے انہیں نہ دن کو چین ہوتا ہے اور نہ رات کو آرام دوسری طرف ایک مزدور دن بھر کی محنت کے بعد چند پیسے لے کر سادہ خوراک کھاتا ہے اپنے بال بچوں کو کھلاتا اور مٹی کے گھروندے میں سکون کی نیند سو جاتا ہے سکون اور مسرت کی اس ننھی منھی دنیا پر دولت مندوں کے ہزاروں ایوان قربان کئے جا سکتے ہیں کیونکہ وہ زندگی جو سکون سے خالی ہے وہ ایک ایسا عذاب ہے جو بحر نوع جہنم سے بھی بد تر ہے۔مزدور کی محنت سے زندگی میں رونق حسن اور رعنائی ہے اور اس کے دم سے جنگل ،گلزار اور ویرانے بہار آفرین ہیں۔
جس کا ہر قطرہ ہے دنیا کے لئے آبِ حیات
چشمہ پھوٹا ہے وہ مزدور کی پیشانی سے
ایک مزدور کی ضروریات زندگی مختصر ہوتی ہیں انسان جس قدر اپنے ضروریات کو گھٹاتا ہے وہ اتنا ہی اللہ تعالی کے قریب ہوتا چلا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ مزدور کی اکثریت پابند صوم و صلوٰۃ ہوتی ہے ان کی کمائی حلال ہوتی ہے ان کی اولاد کی رگوں میں پاکیزہ رزق جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی ان کی دعاؤں کو قبول کرتا ہے انہیں اطمینان قلب اور سکون کی خاطر ایسی نعمت میسر ہوتی ہے جو بادشاہوں اور امیر وں کو دولت کے تمام تر خزانے دے کر بھی نہیں مل سکتی ہمارا معاشرہ سرمایہ دارانہ نظام کے تحت چل رہا ہے یہاں امیر روز بروز امیر ہوتے جا رہے ہیں اور وہ لوگ جو محنت کرتے ہیں وہ فاقوں کے ساتھ سوتے اور آہوں کے ساتھ اٹھتے ہیں۔
کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ
دُنیا ہے تیری منتظر روز مکافات
خدا کرے ہم لوگ مزدور کی سچی عظمت کی دل سے قدر کریں اس کا احتر ام کریں اور معاشرے میں اسے قدر و منزلت کی نگاہوں سے دیکھیں کیونکہ وہ اپنی محنت اور مشقت کی وجہ سے اللہ تعالی کے بہت قریب ہے اور یہی حقیقی عظمت و رفعت ہے مگر ہم اسے حقیر ور کم تر سمجھتے ہیں اوراسے اس کی مزدوری بھی یوں دیتے ہیں جیسے اس پر احسان کر رہے ہوں ہمیں ایسے رویوں کو بدلنے کی ضرورت ہے جو ہمیں پستی کی طرف لے جا رہے ہیں۔ہمیں اسلا م نے جو مساوات کا درس دیا ہے اس پر عمل پیرا ہونے میں ہی ہماری دنیا اور آخرت میں بھلائی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *