جب تم سے ملاقات کی صورت نہیں ہوتی

جب تم سے ملاقات کی صورت نہیں ہوتی

جینے کی مجھے کوئی ضرورت نہیں ہوتی

پتھر کی طرح ہے، وہ کسی راہ گزر میں

جس دل میں مری جان، محبت نہیں ہوتی

دن میرا گزرتا ہے، تری راہ کوتکتے

راتوں کو تری یاد سے، فرصت نہیں ہوتی

وہ گھر ، کسی ویران جزیرے کی طرح ہے

بچوں کی جہاں کوئی شرارت نہیں ہوتی

وہ شہرِ ہنر میں، کبھی زندہ نہیں رہتا

جس کے بھی خیالات میں، جدّت نہیں ہوتی

اے دوست! عبارت کے تقاضے ہیں بہت کچھ

سجدوں ہی سے تکمیلِ عبادت نہیں ہوتی

حیرت کدۂ نورِ ازل میں ہوں میں حفیظ

اب مجھ کو کسی بات پہ حیرت نہیں ہوتی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *