چاند پر پانی کے وسیع ذخائر کی موجودگی کے ثبوت سامنے آگئے.

ماہرین کو چاند کی سطح پر پانی کی موجودگی کے مزید ٹھوس ثبوت مل گئے ہیں. پانی کے یہ ذخائر وسیع ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ پانی آئندہ یہاں بنائی جانے والی انسانی آبادی کیلئے کافی ہوگا۔ سائنس میگزین کی رپورٹ کے مطابق شمال مغربی افریقہ کے صحرا میں چاند سے گرنے والے شہابیے کا جائزہ لیا گیا تو ماہرین کو اس میں میگونائٹ نامی منرل کی موجودگی کا علم ہوا۔

جاپان کی ٹوہوکو یونیورسٹی کے ماہرین نے میگونائٹ کا مزید جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ یہ ایسا منرل ہے جسے بننے کیلئے پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ سائنسدانوں کو قمری شہابیے سے معدنیات ملی ہیں۔ محققین کی ٹیم کے سربراہ ماساہیرو کایاما کے مطابق، میگونائٹ سلیکون ڈائی آکسائیڈ پر مشتمل قلمی منرل ہے اور یہ کوارٹز سے ملتا جلتا ہے۔ یہ زمین پر صرف اسی صورت بن سکتا ہے جب الکلائن واٹر بشمول سلیکون ڈائی آکسائیڈ ہائی پریشر کے ماحول میں ہوا میں تحلیل ہوجائے۔ میگونائٹ کی موجودگی سے واضح اشارہ ملتا ہے کہ چاند پر پانی موجود ہوگا۔

ایک طویل عرصہ سے ماہرین کا یہ ماننا تھا کہ چاند پر پانی بالکل موجود نہیں اور ممکن ہے کہ سطح کی حد تک یہ بات درست ہو لیکن کئی تحقیق سے یہ نظریات پیش کیے جا تے رہے ہیں کہ چاند پر وافر مقدار میں پانی موجود ہے، جو برف کی شکل میں ہے۔ ممکن ہے کہ یہ پانی چاند کی سخت اور خشک سطح کے نیچے کہیں موجود ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *