کیا آپ جانتے ہیں کہ مغل شہنشاہ جہانگیر نے اپنی محبوب ترین ملکہ کے منہ کی بدبو ختم کرنے کے لئے کونسی چیزایجاد کروائی.

پان لبوں کی شان پوری دنیا میں استعمال ہوتا ہے لیکن ہر ملک میں عمومی طور پر اسکے استعمال میں اجزا الگ الگ ہوتے ہیں۔ پان خوراک اور نشہ کے علاوہ مذہبی اور ثقافتی اہمیت رکھتا ہے۔ ہندووں کے مطابق انکے دیوی دیوتاوں میں کرشنا مہاراج پان کھانے کے شوقین تھے۔ ان کے لئے پان کے پتے اہتمام سے اکٹھے کئے جاتے تھے لیکن پان کی طبی حوالے سے جو معروف تاریخ ملتی ہے اسکا تعلق مغلیہ خاندان سے جڑا ہوا ہے۔ جس سے بعد ازاں ہندوستان میں پان کلچر کے طور پر متعارف ہوگیا۔

پہلے پہل شہنشاہوں اور مہاراجوں کا یہ شوق تھا لیکن اب تو یہ ریڑھی بانوں کی بھی مجبوری بن چکا ہے۔ روایت ہے کہ مغل شہنشاہ جہانگیر جو اپنی ملکہ نورجہاں کی زلفوں کا اسیر تھا اسکے مشوورں سے امور سلطنت طے کیا کرتا تھا۔ عجیب اتفاق تھا کہ ملکہ نورجہاں سے بے حد محبت کرنے والے سلطان کو اسکی ذہانت اورخوبصورتی دونوں نے اپنا مطیع کئے ہواتھا لیکن شہنشاہ کو ملکہ کے منہ کی بدبو ناگوار لگتی تھی۔ وہ جب بھی ملکہ کی جانب جھکتا تو اسے ناگوار بو آتی تھی۔ ملکہ کی دلربائی کی وجہ سے اس نے ملکہ کے منہ کی بدبو کو دور رکنے کے لئے خوشبودار پان ایجاد کراڈالا۔ شہنشاہ جہانگیر نے اطبا سے اسکا ذکر کیا تو انہوں نے ملکہ کے لئے خوشبودار پان بنانا شروع کردئیے۔

حکماء نے جو اجزا پان کے پتے میں شامل کئے ان میں چھوٹی الائچی، لونگ، چونا، کتھا، چھالیا، سونف اور ناریل شامل تھے جن کی طبی افادیت نے بھی ملکہ کو پان کا ایسا اسیر بنایا کہ وہ اسکی عادی ہوگئی. ملکہ کی دیکھا دیکھی دوسری ملکاوں نے بھی خوشبودار پان کھانے شروع کردیئے۔ اس دوران حکما نے شہنشاہ جہانگیر کے لیئے کشتہ جات کے متبادل کے طور پر پان میں ایسے اجزا شامل کرکے اسکو دئیے جواسکو دماغی اورجنسی چستی دیتے تھے۔ شہنشاہ کے پان میں چاندی کے ورق، شہد، زعفران بھی شامل کرلیئے جاتے تھے جس سے شہنشاہ کولذت دہن کے علاوہ دماغی اور جسمانی چستی حاصل ہوتی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *