اسے کہتے ہیں تبدیلی۔۔۔!عمران خان نے ایک ویٹر کو پارٹی ٹکٹ دیا اوروہ ہیوی ویٹ امیدواروں کو شکست دیکر ممبر قومی اسمبلی بن گیا،

ہوٹل میں ویٹر کا کام کرنے والاپی ٹی آئی کےٹکٹ پر ممبر قومی اسمبلی بن گیا۔ پاکستان تحریک انصاف نے حالیہ الیکشن میں ایک ایسے شخص کو بھی ٹکٹ دیا جو کہ ایک ہوٹل میں ویٹر تھا۔ تحریک انصاف کے نومنتخب ایم این اے گل ظفر علاقے میں ’’ باغی‘‘ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ گل طفر اپنے علاقے میں تحریک انصاف کے متحرک کارکنان میں سے ایک تھے۔ جب کہ وہ قبائلی علاقے فاٹا کے سابق وفاقی انتظامیہ کا بھی حصہ تھے۔ گل ظفر نے باجوڑ این اے 41 سے انتخابات میں حصہ لیا۔گل ظفر نے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدواراخوانزادہ چٹان کو اس حلقے سے شکست دی جو کہ بہت مضبوط امیدوار تصور کیے جا رہے تھے۔ جب کہ آزاد امیدوار شہاب الدین کو بھی شکست دی۔

ظفر گل نے 2013ء کے انتخابات میں بھی حصہ لیا تھا تا ہم اس میں ان کو شکست ہوئی تھی۔ تحریک انصاف نے قبائلی علاقے کی 12میں سے 6 نشستیں جیتیں۔ ظفر گل سے پوچھا گیا کہ آپ تو ایک ہوٹل میں ویٹر تھے اس کے باوجود بھی آپ نے ایک بہت مضبوط امیدوار کو کیسے شکست دی؟ توگل ظفر کا کہنا تھا کہ بے شک میرا پس منظر اتنا مضبوط نہیں تھا لیکن پارٹی کی مدد سے میں اتنے فنڈ اکھٹے کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا کہ میں انتخابی حلقے میں مہم جاری رکھ سکوں۔ ہم نے 20 ملین کے فنڈ اکھٹے کیے جس سے پارٹی کے دفاتر اور سیکریٹریٹ بنائے۔ ظفر گل کا مزید کہنا تھا کہ اس ضلع سے پارٹی کے 6 میں سے 5امید وار کامیاب ہوئے تھے اور ان میں سے کوئی بھی اتنا امیر نہیں تھا۔ ظفر گل نےکہا کہ بے شک ہمارا تعلق امیر طبقے سے نہیں ہے لیکن لوگوں نے ہمیں تبدیلی کے لیے ووٹ دیا۔ تحریک انصاف اس وقت مرکز کیساتھ ساتھ پنجاب ،خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں بھی حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *