“جشن آزادی مبارک”

تحریر : اشفاق بن اعجاز

14اگست 2018 ۔۔ حسب معمول نماز فجر کی ادائیگی کے بعد عبداللہ صبح کی سیر کے ارادے کی غرض سے پارک کی جانب رواں دواں ہے ۔۔

“جشن آزادی مبارک عبداللہ” ۔۔

موسوم لہجے کی آواز عبداللہ کو مخاطب کرتے ہوۓ ۔۔

آپکو بھی بہت بہت مبارک انیب بھائی ۔۔ اللہ کا احسان ہے جس نے ہمیں ایک آزاد ریاست دی کروڑوں رحمتیں ہوں قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ جن کی کاوشوں سے آج ہم ایک آزاد ریاست میں ہیں ۔۔ اپنے قائد کی خواہش کہ “ہم ملک پاکستان کو اسلام کی عملی تجربہ گاہ بنائیں گیں ” اس خواہش کی طرف گامزن ہیں ۔۔

تو کیا ہم نے اسلام کی عملی تجربہ گاہ بنالی عبداللہ 71 سالوں میں ؟؟؟

انیب بھائی ۔۔ قدموں کی رفتار بڑھائیں ۔۔۔ عبداللہ سوال نظر انداز کرتے ہوۓ تیز تیز چلنے لگا ۔۔

حسب روایت ۔۔ روزمرہ کی جسمانی کثرت کے بعد عبداللہ گھر آیا ۔۔

“کیا ہم نے اسلام کی عملی تجربہ گاہ بنالی عبداللہ 71 سالوں میں ؟؟؟

یہ سوال ابھی تک عبداللہ کے لئے معمہ بنا ہوا تھا ۔۔

میں آزاد ہوں ۔۔ یا
کیا میں آزاد ہوں ؟؟؟
عبداللہ لبوں ای لبوں میں آہستہ لہجے میں خود سے محو گفتگو ہوا ۔۔۔

آنکھیں موندھیں بستر پر لیٹتے ہوۓ ۔۔۔ عبداللہ خود کلامی کرنے لگا ۔۔

کیا فرق پڑتا ہے اگر ۔۔ اسلام کے نام بنے ملک پاکستان میں باآواز بلند اسلام کا پرچار نہیں کیا جاسکتا ۔۔
“لیکن ہم آزاد تو ہیں” ۔۔

کیا فرق پڑتا ہے اگر ۔۔ اسلام کے نام پہ حاصل کی گئی ریاست پاکستان میں دن دگنی اور رات چگنی رفتار سے اسی مذہب اسلام کو دہشت گردی کا مذہب قرار دیا جارہا ہے ۔۔

” لیکن ہم آزاد تو ہیں ”

کیا فرق پڑتا ہے اگر ۔۔ مملکت خدادا کی بیٹی کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حکمران صہیونی قوتوں کو سونپ دیتے ہیں آبرو ریزی کے لئے ۔۔

” لیکن ہم آزاد تو ہیں ”

کیا فرق پڑتا ہے اگر ۔۔آج انگریز کی جگہ سرمایا دار ۔۔ یا جاگیر دار میری بہنوں بیٹیوں کی آبرو ریزی کرے ۔۔ چہرے ای تو بدلے ہیں کیا فرق پڑتا ہے ۔۔

“لیکن ہم آزاد تو ہیں”

کیا فرق پڑتا ہے اگر ۔۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بہن کی آبرو حفاظت کرتے سرعام ایک بھائی کو موت کی نیند سلا دیا جاتا ہے ۔۔

“لیکن ہم آزاد تو ہیں”

کیا فرق پڑتا ہے تین بیٹیوں کی ماں انصاف کا دروازہ کھٹکھٹاتے زندہ مردہ ہو جاتی ہے ۔۔

“لیکن ہم آزاد تو ہیں”

کیا فرق پڑتا ہے اگر ۔۔ اگر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی باگ ڈور اسلام سے عاری اور دشمن اسلام قوتوں کے ہاتھوں میں ہے ۔۔

“لیکن ہم آزاد تو ہیں ”

کیا فرق پڑتا ہے اگر ۔۔ مملکت خدادا کے محافظ ہی اس مملکت کو لوٹ کھانے پہ تلے ہیں ۔۔

“لیکن ہم آزاد تو ہیں ”

کیا فرق پڑتا ہے ۔۔ اگر آج انگریز کی جگہ اسی مملکت کے محافظوں کے ہاتھ میرے اپنے ہی بھائیوں کے خون سے رنگے ہیں ۔۔

” لیکن ہم آزاد تو ہیں ”

کیا فرق پڑتا ہے ۔۔ اگر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اللہ کے دین کا علم سر نگوں ہو چکا ہے ۔۔

” لیکن ہم آزاد تو ہیں ”

کیا فرق پڑتا ہے ۔۔ اگر مملکت خدادا میں ۔۔ دن دھاڑے غریبوں کے بچوں کو کچل دیا جاتا ہے ۔۔

“لیکن ہم آزاد تو ہیں ”

کیا فرق پڑتا ہے ۔۔ انصاف مانگنے پر ۔۔ ایک غریب خاندان کے سربراہ کی زبان کاٹ دی جاتی ہے ، ہاتھ پاؤوں توڑ دیے جاتے ہیں ۔۔

” لیکن ہم آزاد تو ہیں ”

کیا فرق پڑتا ہے اگر ۔۔ مملکت خدادا کا ہر پیدا ہونے والا بچہ 2 سے 3 لاکھ کا مقروض ہے ۔۔

” لیکن ہم آزاد تو ہیں ”

کیا فرق پڑتا ہے اگر ۔۔ آج راست گوئی کرنے پر ۔۔ نشان عبرت بنا دیا جاتا ہے ۔۔

” لیکن ہم آزاد تو ہیں ”

کیا فرق پڑتا ہے اگر ۔۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجانے پر ۔۔۔ دہشت گرد اور ۔۔ پردہ نشین بہنوں کو پتھر کے دور کی انسان کو طعنہ دیا جاتا ہے ۔۔

” لیکن ہم آزاد تو ہیں ”

کیا فرق پڑتا ہے ۔۔ میری نسل نوع بے راہ روی ، بے حیائی ، بے شرمی کا شکار ہے ۔۔

” لیکن ہم آزاد تو ہیں ”

کیا فرق پڑتا ہے ۔۔اگر اللہ کے دین کو مملکت خدادا کے ایوانوں سے نکال پھینکا گیا ہے ۔۔

“لیکن ہم آزاد تو ہیں ”

کیا فرق پڑتا ہے اگر میرے قاضی کے ہاتھوں میں اللہ کے قانون کی کتاب کی جگہ ۔۔ طاغوتی قوتوں کے قانون کی کتاب ہے ۔۔

” لیکن ہم آزاد تو ہیں ”

کیا فرق پڑتا ہے اگر آج ۔۔ ہم طاغوتی قوتوں کی بنا اجازت کوئی قانون سازی نہیں کرسکتے ۔۔

” لیکن ہم آزاد تو ہیں ”

کیا فرق پڑتا ہے اگر ہمیں ایک پنجرے سے نکال کر دوسرے پنجرے میں رکھا گیا ۔۔

” لیکن ہم آزاد تو ہیں ”
” ہم آزاد تو ہیں ناں ”

کاش کے ہم آزاد ہوتے ۔۔

کاش کے قیام پاکستان کے ساتھ ساتھ ہم قیام اسلام کے بھی داعی ہوتے ۔۔

کاش جو پاکستان قائد نے بنایا تھا ۔۔ کاش وہ قائم بھی جاتا ۔۔
قائد نے پاکستان بنا تو دیا ۔۔
لیکن افسوس پاکستان آج تلک قائم نہیں ہوسکا ۔۔

افسردہ لہجے میں ۔۔ خود کو کوستے ہوۓ عبداللہ کی لڑکھڑاتی زبان پہ یہ الفاظ رواں تھے ۔۔۔

اللہ اکبر ۔۔
اللہ اکبر ۔۔

مؤذن کی صدا بلند ہوئی ۔۔

عبداللہ ظہر کا وقت ہوگیا ۔۔
اچھا ماں جی ۔۔ میں چلا مسجد بس ۔۔

پرنم آنکھیں لئے عبداللہ مسجد کی جانب بڑھا ۔۔

ہم آزاد ہیں ؟؟
ہم آزاد ہیں ؟؟

بڑبڑاتے مسجد پہنچا ۔۔

“جشن آزادی مبارک عبداللہ”

نماز سے فارغ ہو کر ۔۔ مسجد سے نکلتے ایک اور موسوم آواز نے عبداللہ کو آزادی کی مبارکباد دی ۔۔۔

پیچھے مڑتے ہوۓ عبداللہ کی بے ساختہ ہنسی نکل آئی ۔۔

ہاہاہا ۔۔
آپکو بھی بہت بہت مبارک مبشر بھائی ۔۔۔ لیکن کاش کے ہم آزاد ہوتے ۔۔

کیا مطلب ۔۔ عبداللہ ۔۔
کچھ نہیں بھائی ۔۔ آئیں جشن آزادی مناتے ہیں ۔۔ اور ہاں ۔۔ نئے گانے ریلیز ہوۓ ہیں انڈین ۔۔ یار گاڑی میں وہی چلنے چاہیے آج ۔۔ شراب اور شباب کا انتظام بھی ضروری ہے ۔۔ ہم آج کے دن آزاد ہوۓ ہیں کوئی عام دن تھوڑی ہے یہ ۔۔۔

جہاں تزلیل ہو انسان کی اور نسلوں کی بربادی۔۔

وہاں کس چیز کا دعویٰ کہاں کا جشنِ آزادی۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *