سندھ اور عورت ۔امانت علی شیخ

سندھ اور عورت
امانت علی شیخ.
گر ہم تاریخ کے اوراق کو الٹائیں تو ہمیں ہر دور میں عورت پر ظلم دکہائی دیگا, یورپ جو آجکل عورت کی آزادی کے لیئے ہمارہ رول ماڈل بنا ہوا وہ بھی کس دور میں ہماری طرح عوروں پر ظلم ڈہاتا تھا, وہاں پر عورتوں کو ڈائن قرار دے کر انہیں زندہ جلا دیا جاتا تھا.
عورت نے بڑی مدت سے استحصال برداشت کیا ہے اور ہزاروں سال پاگل دیوتا (مرد) کے ماتحت رہی ہے, جس نے اس پر طرح طرح کا ظلم کیا (سندھ کے مشھور لیفٹسٹ دانشور جناب رسول بخش پلیجو نے ایک ٹی وی پروگرام میں کہا تھا کہ جن مسائل سے عورت سامنہ کر رہی ہے اگر وہ مسائل مرد کے حصے میں آتے تو سارے مرد گدو بدر “پاگوں کی ھاسپٹل” میں پڑے ہوتے) یعنی وہ پاگل ہو جاتے. عورت کو اسکی پیدائشی و حقیقی آزادی 1917 میں رشین انقلاب کے آنے کے بعد ملی وہ رشین انقلاب ہی تھا جس کے لیئے لینن نے لکھا تھا کہ “اگر انقلاب کے راستے میں خواتین ہمارے ساتھ نہ ہوتیں تو ہم کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتے تھے” رشین انقلاب کے بعد عورتوں پر جاری سماجی استحصال کم ہونے لگا اور عورتیں خود مختیار بنیں وہ اپنی زندگی کا خود فیصلہ کرنے لگیں وہ زندگی جینے لگیں (پہلے وہ زندگی گذار رہیں تھی – زندگی جینے اور گذارنے میں بڑا فرق ہے) صدیوں سے جاری فرسودہ باتیں بیکار پڑنے لگیں عورت بزدل اور کم عقل ہے کیوں کہ اس وقت عورتوں نے عقل اور بہادری کی دنیا میں ایسے مثال قائم کیئے کہ دنیا حیران تھی, یے سب کچھ ہونے کے باوجود بھی ہماری پیاری سندھ اپنی جاھلیت کو چھوڑ نہیں سکی اسنے دنیا سے قدم سے قدم ملانا نہیں سیکہا اس لیئے آج تک یہاں اپمان ہو رہا ہے.
ہمارے یہاں جو سب سے بڑا مسلہ ہے وہ یہ ہے کہ یہاں پر عورتوں کو انسان سمجھا ہی نہیں جاتا اگر اسے انسان سمجھا جاتا تو اسے وہ تمام حقوق دیئے جاتے جو ایک انسان کو دیئے جاتے ہیں, ایک یہاں جب گھر میں بیٹی پیدا ہوتی ہے تو اتنی خوشی نہیں منائی جاتی جتنی بیٹے کے پیدا ہونے پر منائی جاتی ہے اور پھر اسکی پرورش بھی بیٹوں سے کم کی جاتی ہے اگر گھر میں گوشت پکا ہو تو یہ کہا جاتا ہے کے پہلے مردوں کے لیئے نکالو اگر بچے تو عورتوں کو دے دینا, یہ ہے ہماری سندھ جس پر کچھ لوگ بڑا ناز کرتے ہیں.
دوسرا یہاں پر اگر عورت سے کوئی غلطی ہو جائے تو مرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اسکو ڈانٹے, ڈانٹے کیا اسے تو قتل کرنے کا بھی حکم ہے آپنے کئی مرتبہ پڑہا ہوگا کہ چوٹی سی غلطی پر عورت کو قتل کیا گا وہ چھوٹی سی غلطیاں یہ ہیں مثلن چائے میں شکر زیادہ یا کم ڈالنا نمک کا زیادہ استمعال کرنا یا پانی لانے میں دیر کرنا…!!!! اتنی منافقت کیوں یار..؟؟؟؟؟؟
اگر یہاں کوئی عورت یہ کہے کہ مجھے کسی سے پیار ہو گیا ہے تو اس پر جو ظلم ستم کیا جائیگا وہ بیان نہیں کیا جا سکتا, پیار پر پابندی لگانا ایک عظیم گناھ جو قوم پیار پر پابندی لگاتی ہے وہ ترقی نہیں کر سکتی.
یہاں پر اگر کوئی عورت اپنے کزن کہ ساتھ باتیں کرتی دیکھی جائے تو اسے شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے…… اوہ بھائی اس سوچ کو لیکر آپ ایکیسویں صدی میں کیسے رہ رہے ہیں… ؟؟؟؟ اور یہاں اگر کوئی عورت آپکو عزت دے تو اس کے بارے میں آپکو جو سننے کے لیئے ملے گا اس سے تو آپکو اللہ بچائے اس کے ناجانے کیا کیا نہیں بولا جاتا.
اس سب ہونے کے باوجود بھی سندھ میں سہنی جیسی عورتیں بھی پیدا ہوئی ہیں جنہون نے فرسودہ رسوم و رواج کی دیواروں میں دراڑیں لگا دیں, وہ سہنی ہی تھی جس نے عشق میں اپنے شرحی خاوند کو چھوڑ کر اپنے محبوب سے راتوں کو ملنے جاتی تھی, اور اس سے اس کیفیت کا اظہار کرتی تھی جس کا اپنے خاوند سے نہیں کر سکتی تھی اسی ادا پر تو سندھ کے سب سے بڑے شاعر شاھ عبدالطیف بھٹائی کا سہنی پر پیار آیا تھا اور اس کے عشق کو عظیم و حقیقی عشق قرار دے کر “سر سہنی” تخلیق کیا جسے پڑھ کر ہمیں لگتا ہے کہ محبت ایک بغاوت ہے اپنے ریتی و رواج سے اپنے سماج سے, سہنی کے اسی عمل کو سراہتے ہوئے شاھ لطیف نے کہا تہا کہ “وہ مائیں فخر کیوں نہ کریں,جن کی سہنی جیسی بیٹیاں ہوں”.
اسی موضوع سے جڑی ایک اور بات شیئر کرنا چاہتا ہوں جو کہ شیخ سے منسوب ہے شیخ ایاز اپنی جیون کتھا میں لکھتے ہیں کہ” مجھسے کسی انڈین پنجابی شاعر نے پوچھا کہ شیخ صاحب کیا سندھ کی عورتیں عشق کرتی ہیں اور مینے کہا ھا سندھ کی عورتیں ایسا عشق کرتی ہیں جیسا امرتا پریتم نے ساحر لدھیانوی سے کیا تھا” سو دوستو سندھ کے عورتوں کے ایسے ہمت برے مثال ملتے ہیں لیکن ایسا مجموئی طور پر نہیں ہے اور ایسا مثال کبھی کبھی ملتا ہے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *