آمری از ماسواللہ کافری است (اللہ کے سوا غیر کی حکمرانی کفر ہے )

تحریر : اشفاق بن اعجاز

شرک اور مشرک کا لفظ سنتے ہی ہمارے ذہن میں جو سب سے پہلا خیال آتا ہے وہ ہے بت پرستی ۔۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے ہم تو بت پرست نہیں یہی سوچ ہمیں نفس مطمئنہ عطا کرتی ہے ۔۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ بت ہے کیا ؟؟ کیا صرف بت سے مراد وہی مٹی کا بت ہے جسے سامنے رکھ کر پوجا جاۓ تو وہ شرک کے زمرے آتا ہے یا اسکی اور شکلیں بھی ہیں ۔۔ اگر ہم اپنے گریبان میں نظر دوڑائیں تو ہمیں خود محسوس ہوگا کہ ہم نے کبھی آبا و اجداد کی رسوم پر عمل کرتے اور کبھی اپنے نفس کی خواہشات پوری کرتے ہوۓ شرک اور بدعت کے کیسے کسیے بت تراشے ہیں ۔۔ ہم نے سینوں کو بتوں سے معمور کر رکھا ہے ۔۔ کہیں غرورِ و تکبر کا بت تو کہیں تعصب کا بت ، کہیں اولاد کی محبت کا بت تو کہیں بغض اور کینہ کا بت ، کہیں رسم و رواج کا بت تو کہیں قومیت کا بت ، کہیں وطنیت کا بت اور کہیں عشق و محبت کا بت ۔۔ الغرض نجانے کیا کیا بت ہیں جنہیں ہم نے اپنے سینوں میں جگہ دے رکھی ہے ۔۔ زبان سے اللہ کی توحید کا اقرار تو کرتے ہیں لاالہ الااللہ لیکن عملی طور پر ہمارے قدم کسی اور کی طرف اٹھتے ہیں ۔۔ غیر اللہ کے قوانین اور ضوابط بڑی خوشی سے قبول کرتے ہیں اور انہیں بدلنے کی بھی کوشش نہیں کرتے ۔۔ جاہ و منصب اور مال و دولت کی محبت نے ہماری آنکھوں پر پردہ ڈال رکھا ہے ۔۔

ہر وہ چیز بت ہے جو احکام الہیہ کے آڑے آئے ۔۔ ہر وہ محبت بت ہے جو احکام الہیہ سے ٹکراتی ہو ۔۔ پھر بیشک وہ محبت مادر ، پدر کی ہو یا شریک حیات کی وہ محبت بھائی بہن کی ہو یا عاشق و معشوق کی ۔۔ جو چیز بھی احکام الہیہ سے ٹکراۓ وہ بت ہے اور اللہ کے احکام سے روگردانی کر کے اس بت کے پیچھے اپنے نفس کے گھوڑے دوڑانے والا شخص مشرک ہے ۔۔ مشرک صرف وہ ہی نہیں جو غیر اللہ کے سامنے سر جھکاۓ ہر وہ انسان مشرک ہے جو اللہ کی رضا کے آگے کسی دوسرے کی رضا کو برتری دے ۔۔ اور ہر وہ چیز بت ہے جو احکام الہیہ سے روگردانی پہ ابھارتی ہے ۔

دن میں پانچ دفعہ مؤذن کی صدا پہ لبیک کہنے والا نمازی اگر اللہ کے احکام کو مسجد تک محدود رکھتا ہے اور مسجد کے باہر طاغوتی نظام کا حصہ ہے تو اسکا شمار بھی مشرکوں کی فہرست میں ہے ۔۔ ہر سال حج اور زکوٰۃ دینے والے معاشرے کے الحاج بھی اگر اپنے معاشی اور معاشرتی معاملات میں اللہ کے عائدکردہ قوانین چھوڑ کر سودی اور طاغوتی نظام کو اپناتے ہیں تو وہ بھی مشرکوں کی صف میں کھڑے ہیں ۔۔ اسی طرح معاشرے کے نام نہاد علماء کرام ، قاضی ، قادری ، نقشبندی ، مجددی ، بھی اگر اسلام اور اللہ کے عائد کردہ قوانین کو صرف مسجد کی حد تک رکھتے ہوۓ اپنے سیاسی معاملات طاغوت کی سپرد کرتے ہیں اور اللہ کے احکام سے روگردانی کرتے ہوۓ غیر اللہ کے نظام کے حامی و داعی ہیں اپنے سیاسی معاملات میں تو یہ بھی اسی مشرکوں والی صف کا حصہ ہیں ۔
مسجد میں نماز پڑھ لینا اور مسجد کے باہر اپنے نفس،زمانے یا خدا سے پھرے ہوۓ حکمرانوں کی اطاعت کرنا خدا کی بندگی نہیں بلکہ زمانے کی بندگی ہے اسلام اس قسم کے تضادات اور منافقت کو پسند نہیں کرتا

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اس کے شرف کو اس طرح قائم رکھا کہ اپنے سوا کسی کے آگے نہ جھکنے کا حکم دیا ۔۔ جھکنے سے مراد صرف سر یا جسم کا جھکانا نہیں احکام الہیہ کو پس پشت ڈال کر غیر اللہ کے احکام کو ماننا بھی جھکنے کے مترادف ہے لیکن انسان اپنی کم نگاہی سے اس اشرف کو بحال نہ رکھ سکا اور اس نے غیر اللہ کی غلامی کا قلادہ گلے میں ڈال کر خود کو قعر مذلت میں گرا لیا اس کے پاس عزت و شرف کا جو موتی تھا اسے اس نے حاکموں اور بادشاہوں کی نذر کردیا اس نے اللہ تعالیٰ کی بندگی اور غلامی کی بجاۓ دنیوی حکمرانوں کی غلامی اختیار کر لی انہوں نے اسے اللہ کے آگے جھکانے کے بجاۓ اپنے آگے جھکایا ۔۔ اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کی بجاۓ اپنے احکام منواۓ اور اس قسم کی غلامی اختیار کرنے والوں نے یہ بھی نہیں سوچا کہ وہ اپنے ہم جنسوں کی غلامی کرکے اپنے آپکو اصل مقام سے کس قدر گرا رہے ہیں حیرت ہے کہ کتے کتوں کے آگے سر نہیں جھکاتے لیکن انسان ایسا کرگزرا ہے کہ وہ اس معاملے میں انکی زندگی سے بھی سبق حاصل نہیں کرتا اور یہ نہیں سوچتا کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کا بندہ ہے اور اسے صرف اسی ذات کے آگے سر جھکانا ہے اور غیر اللہ کی اطاعت نہیں کرنی چاہیے ۔۔

از خوۓ غلامی زسگاں خوار است
من ندیدم کہ سگے پیش سگے سر خم کرد

(انسان غلامی کی عادت میں کتوں سے بھی زیادہ ذلیل ہے ۔ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ کتے نے کسی کتے کے آگے سر جھکایا ہو)

اللہ تعالیٰ کی مکمل اطاعت اور بندگی اس صورت میں ہوتی ہے جبکہ ملک میں اسلامی نظام نافذ ہو اور ملک کے تمام قوانینِ قرآن وسنت کے مطابق ہوں اگر ملک میں اسلامی قانون نافذ نہ ہو تو کوئی شخص اللہ کی مکمل اطاعت کا دعویٰ نہیں کر سکتا ۔ معاشی ، معاشرتی اور عائلی بہت سے ایسے معاملات ہوں گے جن میں اسے شعوری یا غیر شعوری پر ان احکام کی اطاعت کرنا پڑے گی جو اللہ تعالیٰ کے دئیے ہوۓ قانون کے علی الرغم کسی فرد واحد یا ادراے کے بناۓ ہوۓ ہوں گے ۔ ایسی صورت میں کوئی شخص کیسے خالص اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا دعویٰ کرسکتا ہے ؟ زبان سے کوئی کتنا ہی اللہ اللہ کرنے والا ہو حقیقت میں اس کا معبود وہی حکمران قرار پاۓ گا جس کے احکام کی وہ اطاعت کر رہا ہے ۔

گرچہ برلَب ہاۓ او نام خدا است !!
قبلۂ او طاقت فرمانرواست

(گرچہ اس (محکوم) کے لبوں پر خدا نام ہوتا ہے لیکن اس کا قبلہ فرماں روا کی طاقت ہوتی ہے)

جو شخص اللہ تعالیٰ کے علاؤہ کسی کو معبود سمجھ کر اس کے آگے جھکتا ہے وہ اپنی تذلیل کا سامان خود کرتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے تو انسان کو عزت و آبرو قائم رکھنے کے لئے اسے اپنے سوا کسی کے آگے جھکنے کا حکم نہیں دیا ۔ حقیقت میں انسان کا شرف اسی میں ہے کہ وہ خداۓ واحد کے سوا کسی کے آگے سجدہ ریز نہ ہو اور اپنی دعاؤں میں اسی کو پکارے اور اسی کی بندگی کا اہتمام کرے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *