صدقے تیرے یارسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

تحریر : اشفاق بن اعجاز

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالی شان ہے ۔

‏‏‏‏‏‏أَن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ “”فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، ‏‏‏‏‏‏لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِه۔۔

بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ تم میں سے کوئی بھی ایماندار نہ ہو گا جب تک میں اس کے والد اور اولاد سے بھی زیادہ اس کا محبوب نہ بن جاؤں۔
(صحیح البخاری 14)

یہ حقیقت ہے کہ انسان سے کامل اطاعت کا اظہار اسی وقت ہوتا ہے جب اسے اپنے مطاع سے عشق کی حد تک محبت ہو اور اس قسم کی محبت بھی اس ذات سے ہوتی ہے جس میں بہت سے کمالات و اوصاف جمع ہوگئے ہوں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خٔلق عظیم کے مالک تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام مخلوق کے لئے حد درجہ شفیق اور مہربان تھے آپ جہانوں کے لئے رحمت بن کر آۓ تھے ۔ آپ نے دین کی خاطر انتہائی مصائب برداشت کئے لیکن دین کو مکمل صورت میں پیش کرکے مسلمانوں کے لئے ہر طرح کی ترقی کے دروازے کھول دئیے۔ آپ ہی کے ذریعے دنیا تہذیب و تمدن سے آشنا ہوئی ۔۔ انسان انسانوں کی غلامی سے آزاد ہوکر شرف انسانیت سے آگاہ ہوا ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہوتے تو ” ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ” کہہ کر بات کرتے ۔ آپ ہمارے قافلے کے سالار ہیں۔ آپ کی ہی بدولت ہمیں اطمینان قلب اور روحانی چین نصیب ہوا ۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور اطاعت ایمان کی شرط اولین ہے ۔ آج بھی ہماری ترقی کا راستہ یہی ہے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا رہنما ، مرشد و ہادی تسلیم کریں اور ہر معاملے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلیں ۔ اسی طریقے سے ہم دنیا میں باعزت مقام حاصل کر سکتے ہیں ۔۔

آبروۓ ما ز نام مصطفی است
(ہماری عزت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے ہے)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی ہونا معمولی بات نہیں بلکہ یہ ایسا شرف ہے جس کے لئے پہلے زمانے کے پیغمبر بھی تمنا کرتے رہے ۔ ہماری عزت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے ہے اس لئے ہمیں آپ کا دامن مضبوطی سے پکڑنا چاہیے ۔ حقیقت میں ہماری زندگی کا راز اسی پاک دامن سے وابستگی پر مضمر ہے ۔ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر فرمان پر عمل کرنا چاہیے ۔ آپ کا دامن تھامنے کا مطلب یہی ہے کہ ہمارا اٹھنا بیٹھنا ، کھانا پینا ، جاگنا سونا ، غرض کہ زندگی کا ہر عمل آپ کی سنت کے مطابق ہو آپ صلی اللہ علیہِ وسلم کی اطاعت کے بغیر ایک سچے مسلمان کی زندگی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ محبت اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زبانی دعوے کوئی معنی نہیں رکھتے ۔۔ یہ منشور کہ

صدقے تیرے یا رسول ۔۔
حکم تیرا کوئی نہیں قبول۔۔

محبت کا تقاضا نہیں ۔۔ اگر کوئی شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دعویدار ہو لیکن غیروں کی اطاعت کرتا ہو تو اپنے دعوے میں جھوٹا متصور ہوگا ۔۔

اطاعت کا تقاضا کچھ یوں ہے ۔۔ حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک مرتبہ محض اس بنا پر خربوزہ کھانے سے انکار کردیا تھا کہ انہیں معلوم نہ تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خربوزہ کیسے کھایا ہے ۔ آپ نے یہ گوارا نہ کیا کہ خربوزہ کھانے کے معاملے میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علاؤہ کسی دوسرے شخص کی تقلید کریں اسی کا نام کامل اطاعت ہے ۔۔

کامل بسطام در تقلید فرد
اجتناب از خوردن خربوزہ کرد

حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا مطلب یہ نہیں کہ زبان سے آپ کی محبت کا دعویٰ کیا جاۓ لیکن عملاً دوسروں کی غلامی کی جاۓ ۔۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو چھوڑ کر غیروں کے احکام مانے جائیں ۔۔ آپ کی سنت کا اتباع کرنے کی بجاۓ رسم و رواج کی پابندی کی جاۓ ۔۔ توحید اختیار کرنے کی بجاۓ شرک و بدعت کے دروازے کھولے جائیں بلکہ محبت کا تقاضا یہ ہے کہ زندگی کے ہر معاملے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کی جاے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو حرز جان بنایا جاے ۔۔ اسی کا نام وفا ہے ۔۔

اگر ہم نے اپنی زندگیوں میں انقلاب لاکر اپنی سیرت و کردار کو کتاب و سنت کے مطابق نہ ڈھالا ۔۔ پورے معاشرے اور پھر پوری دنیا میں اللہ تعالیٰ کے کلمے کو بلند نہ کیا تو قیامت کے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا منہ دکھائیں گے ؟

چوں بناِم مصطفی خانم درود
ازخجالت آب میگردد وجود
عشق میگوید کہّ اے محکوم غیر
سینہ تواز بتاں مانند دیر
تہ نہ داری از محمد رنگ و بود
از درود خود میالا نام او

(جب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر درود پڑھتا ہوں تو میرا وجود شرمندگی سے پانی پانی ہوجاتا ہے ۔ عشق کہتا ہے اے غیر محکموم ! تیرا سینہ بت خانہ کی مانند بتوں سے بھرا ہوا ہے ۔ جب تک تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طور طریقے نہ اپناۓ اپنے درود سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کو آلودہ نہ کر)

اس وقت بعض لوگوں نے دین میں غیر اسلامی نظریات کو شامل کرکے شریعت سے گریز کی راہیں نکال لی ہیں طریقت اور معرفت جیسی پاکیزہ اصطلاحات کو بھی غلط معنی پہنادئیے ہیں ۔ حالانکہ یہ سب شریعت پر عمل کے مختلف مدارج ہیں ۔ جتنا کسی کا عمل شریعت پر زیادہ ہوگا اتنا ہی وہ عشق رسول سے سرشار ہوگا ۔۔ اور اللہ کے قریب ہوگا ۔۔

اللہ نے انسان کو اپنا خلیفہ بنایا ہے ۔ اس کو خلافت کی زمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کے لئے احسن التقویم بنایا گیا ہے ۔ خلافت کی زمہ داری یہ ہے کہ انسان دنیا میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت قائم کرے اور اسکا دیا ہوا نظام اس طرح دنیا میں چلاۓ کہ یہ دنیا امن کا گہوارہ بن جاۓ ۔۔ زندگی کے ہر معاملے میں اللہ کے قانون کو برتری حاصل ہو ۔۔ بندہ و آقا کی تمیز ختم ہوجاۓ ۔۔ جو شخص بھی اپنے آپ کو اطاعت کے اس معیار پر لے آۓ گا دنیا کی تمام قوتیں اسکے سامنے مسخر ہوتی چلی جائیں گی۔

ہمارے مذہبی پیشواؤں نے شریعت کے اس مقصد کو لوگوں سے اسلئے مخفی رکھا کہ اگر صحیح معنوں میں اللہ تعالیٰ کی حکمرانی قائم ہوجاے گی تو وہ بھی دوسرے انسانوں کے برابر آجائیں گے ۔۔ اپنے مریدوں اور پیروکاروں پر انکا تفوق ختم ہوجاے گا ۔۔ اس لئے انہوں نے رسمی عبادات اور درود و وظائف تو بتا دئیے لیکن دین و شریعت کی حقیقی روح ظاہر نہ کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قوم نے اپنے سیرت و کردار کی تشکیل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق کرنے کی بجاۓ صرف زبان سے درود و سلام اور وظائف پر اکتفا کر لیا انہی چیزوں کو تقرب الٰہی اور عاشق رسول بننے کا ذریعہ بنا لیا ۔۔ اس طرح قوم کے ضمیر کے اندر ایمان کی دبی ہوئی چنگاری راکھ ہوگئی ۔۔

سارے کے سارے انسان اس ضابطہ حیات کے پابند ہوں جو اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا ۔۔ اور جسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عملاً نافذ کیا ۔۔ جب تک ایسا نہیں ہوگا ۔۔ کچھ لوگ بے کسی اور کسمپرسی کی حالت میں رہیں گے اور کچھ لوگ اپنا حکم چلا کر انکو محکوم بنائیں گے ۔۔ جو شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے عشق کا دعویٰ کرتا ہے لیکن ان کے لاۓ ہوے نظام حیات کو عملاً نافذ کرکے انسانوں کو تاریکی سے روشنی اور گمراہی سے ہدایت کی طرف لانے کی جدو جہد نہیں کرتا ۔۔ اس کا عشق کامل نہیں ہے ۔۔ دنیا صرف آفتاب نبوت کی ضیا پاشیوں سے منور ہوسکتی ہے ۔۔ اس کے سوا دنیا سے جہالت و گمراھی کی تاریکی دور کرنے کا اور کوئی ذریعہ نہیں ۔۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق کا دعویٰ کرنے والے ہر مومن کا فرض ہے کہ وہ اس نصب العین کو حاصل کرنے کے لئے ۔۔ جدو جہد کرے تاکہ پستی میں گرے ہوۓ انسان بلندیوں پر فائز ہو سکیں!

قوت عشق سے ہر پست کو بالا کردے
دہر میں اسم محمد سے اجالا کر دے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *