تیرے سنگ دلکش ہے زندگی

میں سانولی سی لڑکی…
بوجھل ہیں سانسیں جسکی
چہرہ ہے سنجیدہ
آنکھیں ہیں حجاب آلودہ

رخسار پہ ہیں زردیاں جسکی
میں سانولی سی لڑکی
پیشانی پہ نمایاں ہے
بد بخت کی مہر…

کوئی ھاتھ دیکھے
کوئی پیر دیکھے..
پھیر لے ہر بندہ نگاہوں کو
نہیں مجھ میں کوئی گوہر…
میں سانولی سی لڑکی

اُڑ جائے کبھی آنچل
بہہ جائے کبھی کاجل
سرمئ ہوں شامیں
بھیگ جاؤں بن بادل
میں سانولی سی لڑکی..

#مہوش احسن

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *