گیارھویں عالمی اردو کانفرنس

تحریر …………….. ارشد قریشی

گذشتہ دنوں آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں منعقد ہونے والی گیاھویں عالمی اردو کانفرنس کے کئی اجلاس میں جانے کا موقع ملا اس سے پہلے ہونے والی دس کانفرنسوں میں بھی شرکت کا اعزاز حاصل رہا اور اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ آرٹس کونسل کی انتظامیہ کی شب و روز محنت سے ہی ان کانفرنسوں کا انعقاد ممکن ہوا اور کبھی بھی اس کانفرنس کو منسوخ یا ملتوی نہیں گیا گو کہ ماضی میں شہر کے حالات سے ایک بار اس کا انعقاد ناممکن لگا لیکن اس کے باوجود کانفرنس منعقد کی گئی ۔ اس کانفرنس کی سب سے اہم اور اچھی بات یہ ہوتی ہے کہ کانفرنس میں شرکت کے لیئے کسی انٹری پاس کی ضرورت نہیں ہوتی اور نہ ہی یہ صرف ممبران کے لیئے ہوتی ہے بلکہ ہمیشہ عام لوگوں کو شرکت کی مکمل اجازت ہوتی ہے ۔ کانفرنس کے تمام اجلاسوں کے اوقات کار کے حوالے سے ایک کتابچہ شائع کرکے لوگوں میں مفت تقسیم کیا جاتا ہے ۔ اس مرتبہ پہلی بار اس کانفرنس کو فیس بک پر لائیو بھی کور کیا گیا جسے دنیا بھر میں اردو کے مداحوں نے دیکھا ۔ کسی بھی ٹیم کی بہترین خدمات کے پیچھے ایک ٹیم لیڈر کا ہاتھ ہوتا ہے اسی طرح آرٹس کونسل کے ٹیم کے پیچھے محمد احمد شاہ صاحب کا ہاتھ ہے جو نہ صرف تمام پروگراموں میں خود بہت فعال نظر آتے ہیں بلکہ ان کی پوری ٹیم نہایت فعال انداز میں کام کررہی ہوتی ہے ۔اس عالمی اردو کانفرنس میں نوجوانوں کی کثیر تعداد میں شرکت سے جہاں خوشی ہوئی وہاں یہ اطمینان بھی ہوا کہ نئی نسل کا ادب کی جانب رجحان خاصہ زیادہ ہے دورانِ اجلاس میزبانوں سے نوجوانوں کے سوالات نے اس یقین کو اور پختہ کیا کہ نوجوان نسل کی دلچسپی ادب کے حوالے سے ہمارے اندازے سے کہیں زیادہ ہے۔

بائیس نومبر سے پچیس نومبر چار روز تک جاری رہنے والی کانفرنس میں جہاں دنیا بھر سے مندوبین نے شرکت کی وہیں وطنِ عزیز کے چاروں صوبوں کی بھی بھرپور نمائندگی رہی جب کی آزاد کشمیر سے بھی مندوب موجود تھے ۔آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں اس سے پہلے ایسی دس عالمی اردو کانفرنس کامیابی سے منعقد کی جاچکی ہیں جس میں ادبی شخصیات کے علاوہ ادب سے دلچسپی رکھنے والے شہریوں نے بھرپور شرکت کی ۔ الحمداللہ کراچی کی رونقین دوبارہ لوٹ آئی ہیں ان رونقوں میں اس طرح کی ادبی تقریبات چار چاند لگادیتی ہیں ۔ چار روز جاری رہنے والی اس کانفرنس میں مختلف موضوعات پر کم و بیش 29 اجلاس منعقد کیے گئے ۔ صبح 10 بجے سے شروع ہونے والے اجلاس رات گئے تک جاری رہتے ہر روز چھ سے سات اجلاسوں کا انعقاد کیا جاتا تھا ۔ آرٹس کونسل کی انتظامیہ کی جانب سے جہاں حاضرین کے لیے کھانے پینے کا بہترین انتظام کیا گیا تھا وہیں کانفرنس میں شرکت کرنے والوں کے لیے پارکنگ کی بھی بہترین سہولیات فراہم کی گئیں تھیں۔

کانفرنس کے اجلاسوں میں کئی ایسی ادبی شخصیات شامل رہی تھیں جو گذشتہ دس سالوں سے باقاعدگی سے ہر کانفرنس میں شرکت کرتی رہی ہیں جن میں رضا علی عابدی صاحب ، پیزادہ قاسم صاحب، افتخار عارف صاحب م انور شعور صاحب ، انور مسعود صاحب ، فاطمہ حسن صاحبہ اور انور مقصود صاحب سرِ فہرست ہیں ۔ گذشتہ کانفرنسوں میں جاپان سے اردو ادب سے وابسطہ پروفیسر ہیرو جی کتاؤکا صاحب، غازی صلاح الدین صاحب اور پاکستان کی معروف ادبی شخصیت کشور ناہید صاحبہ شریک تھیں اس بار کانفرنس میں نظر نہیں آئے ۔پروفیسر سحر انصاری صاحب نے کانفرنس میں شرکت تو کی لیکن خرابی صحت کی وجہ سے وہیل چئیر کا استمال کیا ، جب کہ اداکار قاضی واجد، مشتاق یوسفی صاحب اور فہمیدہ ریاض صاحبہ کی کمی شدت سے محسوس ہوئی جو اس دیارِ فانی سے کوچ کرگئے ۔

اس بار کانفرنس میں جون ایلیا، مشتاق یوسفی، جمیل الدین عالی کی شخصیات پر خصوصی اجلاس رکھے گئے تھے جب کہ ادبی ایوارڈ دینے کے حوالے سے ایک خصوصی اجلاس بھی منعقد کیا گیا تھا۔انور مقصود صاحب نے کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں اپنے مخصوص انداز سے حاضرین سے خوب داد سمیٹی اور کانفرنس کا اختتام انور مسعود صاحب کے ساتھ خصوصی اجلاس سے ہوا ، اسے یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ کانفرنس کا آغاز اور اختتام دونوں انور صاحبان سے ہوا اور دونوں بلاشبہ اس ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں ۔ اس بار کانفرنس میں گذشتہ کانفرنسوں کے مقابلے میں قدرِ زیادہ کتابوں کی رونمائی ہوئی جس سے یہ اطمینان ہوا کہ نہ صرف نئی کتابوں کی اشاعت میں اضافہ ہوا بلکہ کتب بینی کے شوق میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا جس کی جیتی جاگتی مثال اس کانفرنس کے دوران لگنے والے کتابوں کے اسٹال تھے جہاں شہریوں کا جم غفیر نظر آتا تھا ۔

گیارھویں عالمی اردو کانفرنس میں اس بار اردو شاعری، اردو ادب، اردو فکشن،اردو سائبراسپیس میں ، بچوں کا ادب، حمد و نعت، اردو موسیقی، کلاسیکل رقص، پاکستان میں تھیٹر اور ٹی وی کی صورت حال، پاکستانی فلم ، اردو تراجم اور دنیا سے رابطے،صحافت معاشرے کی عکاس جیسے اہم موضوعات پر اجلاس منعقد کیئے گئے جب کہ پہلی بار چین سے ہمارے معاشی اور ثقافتی رشتے کے موضوع پر بھی ایک خصوصی اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں چین سے پروفیسر ٹینگ ینگ شنگ صاحب نے شرکت کی اور اردو زبان میں اظہارِ خیال کیا۔

اب تک ہونے والی تمام کانفرنسوں میں سب سے زیادہ ہجوم عالمی مشاعرے میں دیکھا جاتا ہے ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے وہ اس میں ضرور شرکت کرے کیوں کہ دنیا بھر سے آئے شعراء کرام کو سننے کا موقع ملتا ہے ۔ ہمیشہ باہر لان میں بھی اسکرین لگائی جاتی ہے تاکہ جب اندر ہال میں گنجائش ختم ہوجائے تو لوگ باہر اسکرین سے لطف اندوز ہوسکیں اس مرتبہ انتظامیہ نے اچھا فیصلہ کیا کے عالمی مشاعرہ اور محفل موسیقی کا انعقاد سبزہ ذار پر کیا جہاں تمام لوگوں کو براہِ راست دیکھنے کا موقع ملا۔

اس کانفرنس کے انعقاد سے ایک طرف تو بہت سے اجلاسوں سے بہت اہم معلومات میسر آتی ہیں بہت کچھ سیکھنے کے مواقع میسر آتے ہیں تو دوسری جانب بہت سی ادبی شخصیات کے ساتھ بیٹھنے ان سے گفتگو کرنے کا موقع میسر آتا ہے کئی باتیں ایسی بھی مشاہدے میں آتی ہیں جو زہن میں نقش ہوجاتی ہیں جیسا کہ گذشتہ سال جاپان سے آئے پروفیسر ہیرو جی کتاؤکا صاحب نے کہا کہ اس عالمی اردو کانفرنس میں شرکت کرنے کے بعد ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ ہمیں ایک ادبی طاقت کا انجیکشن لگادیا گیا ہے اور اس سے ہمیں اردو زبان کی بقاء اور تحفظ کے لیئے کام کرنے کا مزید حوصلہ پیدا ہوتا ہے ۔بھارت کے مشہور فلمی اداکار راج ببر کی اہلیہ جو بھارت سے خصوصی طور پر کانفرنس میں شرکت کرنے آئی تھیں جو تھیٹر سے وابسطہ ہیں نے کہا کہ میں نے بہت سی کانفرنس میں شرکت کی لیکن جس طرح میری یہاں پذیرائی کی گئی اب سے پہلے کہیں نہیں ہوئی مجھے پاکستان آکر اسے دیکھ کر محسوس ہورہا ہے کہ میں نے دنیا میں جنت دیکھ لی۔ پاکستان کے معروف اداکار طلعت حسین کا کہنا تھا کہ تھیٹر ہماری ثقافت نہیں یہ ترکی اور دیگر ممالک سے پاکستان آیا۔ بی بی سی اردو سے وابسطہ رہنے والے جناب رضا علی عابدی صاحب نے صحافت کے موضوع پر اجلاس کے دوران کہا کہ ٹیلیویژن پر بریکنگ نیوز کی پٹی لکھنے والے اور خبریں پڑھنے والے اردو کو سیکھیں ۔ معروف ادبی شخصیت اور ڈرامہ نویس نورالہدٰی شاہ صاحبہ نے کہا بچیوں سے زیادتی کے موضوع پر اب سے پہلے کبھی ڈرامے نہیں لکھے گئے نہیں دکھائے گئے اب بہت سے نئے لکھنے والے ایسے ڈرامے لکھ رہے ہیں بنارہے ہیں جو عوام میں شعور کی بیداری کا سبب بن رہے ہیں ان کو سراہا جانا چاہیئے ، حقیقت بھی یہی ہے لوگ اپنے دکھ دیکھنا چاہتے ہیں وہ اپنے دکھوں پر ماتم دیکھنا چاہتے ہیں ۔ میں نئے نوجوان لوگوں کے ساتھ مختلف چینل کے لیئے کام کرتی ہوں یقین جانیں مجھے ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے یوں سمجھیں جن کو انگلی پکڑ کر چلنا سیکھایا تھا اب ان کی انگلی پکڑ کر چل رہی ہوں۔ معروف مصنف حسینہ معین صاحبہ نے کہا کہ سمجھ نہیں آتا کیا لکھیں پہلے ہم لکھا کرتے تھے اپنی مرضی سے عوام کی ضرورت کے مطابق اب مالکان کہتے ہیں یہ لکھنا ہے اب ان کی مرضی ہوتی ہے جس کو پورا کرنا سب کے لیئے ممکن نہیں ۔ انور مسعود صاحب نے اپنے مخصوص شاعرانہ انداز میں کہا کہ ان کی مادری زبان پنجابی ہے اور ان کی تدریسی زبان فارسی ہے لیکن ان کو محبت جس زبان سے ہے وہ اردو ہے کیوں کہ میری سوچ الحمداللہ علاقائی نہیں قومی ہے۔

جہاں اس عالمی اردو کانفرنس کو سراہا جاتا ہے وہیں اس پر کچھ تنقید بھی سامنے آتی ہے کانفرنس کے دعوت نامے جاری ہونے کے بعد ہی مختلف فورم پر یہ بات سننے میں آئی کہ اردو کانفرنس کے دعوت نامے انگریزی زبان میں شائع کیئے گئے اس حوالے سے منتظمین کو سوچنا ہوگا کہ عالمی اردو کانفرنس جو اردو کے فروغ کے لیئے منعقد کی جارہی ہے اس کے دعوت نامے اردو میں شائع کیئے جائیں دوسری ایک بات جو میں نے نوٹ کی کہ ظاہر ہے عالمی اردو کانفرنس میں شرکت ایک اعزاز سے کم نہیں اس لیئے اس جدید دور میں ہر شرکت کرنے والا فیس بک پر چیک ان آپشن کے ذریعے اپنے دوست احباب کو آگاہ کرکے فخر محسوس کرتا ہے لیکن آرٹس کونسل کی جانب سے سوشل میڈیا پر جو ایونٹ بنائے گئے تھے وہ رومن اردو میں تھے اس وجہ سے چیک ان کرنے والے تمام لوگوں کے پاس یہ رومن اردو میں لکھا آتا تھا اور اردو سے محبت کرنے والے خوب جانتے ہیں کہ رومن اردو اس اردو زبان کو کس قدر نقصان پہنچا رہی ہے ۔ مجھے امید ہے کہ آئندہ ہونے والی کانفرنسوں میں ان تحفظات کو بھی دور کرلیا جائے گا ۔ یہ ایک فطری عمل ہے کہ جہاں عالمی سطح پر کوئی اتنی بڑی تقریب منعقد ہورہی ہو وہاں ممکن ہے کچھ کوتاہی ہوجائیں اور یہ بات بھی درست ہے کہ اس حوالے سے ہر فرد کی شکایت کا ازالہ بھی ممکن نہیں لیکن اگر اس حوالے سے کوئی اجتماعی شکایت ہو تو اسے ضرور دور کرلینا چاہیئے ۔ وطن عزیز اور اس کے باسیوں کے لیے یہ بات قابل فخر ہے کہ مجموعی طور پر یہ کانفرنس ہر طرح سے کامیاب اور مقبول رہی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *