رانا ثناء سانحہ ماڈل ٹاؤن کا ایک بھیانک کردار ہے:خرم نواز گنڈاپور

پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ رانا ثناء سانحہ ماڈل ٹاؤن کا ایک بھیانک کردار ہے، نوکری پکی کرنے کے لیے شریفوں کے کہنے پر بطور وزیر قانون قتل عام کی منصوبہ بندی کی اور اقتدار کے آخری دن تک شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ حقائق چھپاتے رہے، نئی جے آئی ٹی کی تشکیل کی اپیل کو مان کر مظلوموں کی داد رسی کی گئی جس پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اور لارجر بنچ کے جملہ ممبران کے شکر گزار ہیں، سپریم کورٹ کے فلور پر حکومت کا کردار ہمدردانہ اور انصاف دوست نظر آیا، ہم صرف غیر جانبدار تحقیق چاہتے ہیں جو سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں آج کے دن تک نہیں ہوئی، وہ گزشتہ روز اسلام آباد سے لاہور پہنچنے پر عہدیداروں اور کارکنوں سے گفتگو کررہے تھے، خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ شہباز دور حکومت میں بننے والی دونوں جے آئی ٹیز ریموٹ کنٹرول تھیں، یہ جے آئی ٹیز حقائق مسخ کرنے کے لیے اور مرکزی کرداروں کو کلین چٹیں دلوانے کے لیے قائم کی گئی تھیں، ان جے آئی ٹیز کا جو مینڈیٹ تھا انہوں نے وہی کیا، انہوں نے کہا کہ شہباز حکومت براہ راست سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ملوث نہ ہوتی تو قتل عام کے ذمہ دار کیفر کردار تک پہنچ چکے ہوتے، آج کے دن تک کسی ملزم کو سزا نہیں ملی تو اس کی وجہ سابق حکمران تھے جنہوں نے غلط تفتیش کروا کر کیس کو داخل دفتر کرنے کی منصوبہ بندی کی مگر اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے اور بے گناہ خون ایک نہ ایک دن ضرور بولتا ہے، جس طرح غیبی طاقت نے پاناما لیکس کے ذریعے پاکستان کے کرپٹ ترین خاندان کو اس کے انجام تک پہنچایا اسی طرح سانحہ ماڈل ٹاؤن میں بہنے والا غریبوں اور کمزوروں کا خون بھی قاتل ٹولے کو اس کے اصل انجام تک پہنچائے گا۔ دریں اثناء پاکستان عوامی ۷تحریک کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات نوراللہ صدیقی نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں قیادت اور کارکنوں کے درمیان محبت اور تعلق کے اخلاص کی ایک نئی مثال اور تعریف سامنے آئی، پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے اپنے غریب اور کمزور کارکنوں کے ساتھ کھڑے ہو کر ملکی تاریخ میں ایک نئی مثال رقم کی ہے،کسی اور جگہ نہ ایسے جانثار کارکن نظر آئیں گے اور نہ ہی کوئی ایسا وفا شعار قائد نظر آئے گا ورنہ یہاں پر خون بکتے بھی ہیں اور خریدے بھی جاتے ہیں، شریف برادران کے اقتدار میں شہدائے ماڈل ٹاؤن کے ورثاء کو خریدنے، ڈرانے اور کیس کو داخل دفتر کرنے کے لیے ہر ہتھکنڈا بروئے کار لایا گیا مگر قاتل ٹولے کو اندازہ ہو گیا کہ پاکستان میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو انمول ہیں، جن کا نظریہ ان کی طاقت ہے،انہوں نے کہا کہ ہم غیر جانبدار تفتیش چاہتے ہیں اور جن کے دامن پر داغ نہیں انہیں شفاف تحقیقات سے نہیں گھبرانا چاہیے، چیف جسٹس نے بھی کہا کہ سانچ کو آنچ نہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *