خصوصی افراد کا عالمی دن اور کرنے کے کام (دانش لقمان)

) المی یوم معذوراں ہر سال ۳ دسمبر کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کو معذور افراد کے عالمی دن کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد معذور ی کے مسائل اور معذور افراد کے بنیادی حقوق کے تحت شعورلانا ہے۔ جو معذور افراد کو سوسائٹی کے دھارے سے جوڑنے کے لیے بہت ضروری ہے۔ سوسائٹی میں معذور افراد اکثر امتیازی سلوک کا شکار ہوجاتے ہیں اور ان کی حالت عام انسانوں جیسی نہیں ہوتی ہے۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ سوسائٹی معذور افراد کو سماجی، سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی ہر پہلو کے مین اسٹریم سے جوڑنے کے لیے مناسب اقدام کرے۔
اقوام متحدہ نے بھی معذور افراد کو با اختیار بنانے کے لیے کئی اقدامات کئے ہیں۔ ایک خودانحصاری زندگی کی خاطر اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے 160لئے معذور افراد میں اعتماد پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ عالمی یوم معذور، معذور افراد کو حقوق انسانی اور مسرت کے یکساں لمحات کی فراہمی کے لیے اقدام کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے تاکہ معذور افراد معاشرے میں اپنی حصہ داری کو بخوبی ادار کر سکے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ۲۸۹۱ میں معذور افراد کے لئے دنیا بھر میں عملی اقدا م کے ایک پروگرام کا آغاز کیا تھا۔ در اصل اقوام متحدہ نے تمام انسانوں کو ان کے مذاہب، ذات، اقتصادی حالات اور جسمانی صلاحیتوں سے قطع نظر مساوی حقوق فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔سماجی انصاف تمام افراد کو یکساں بنیادی حقوق فراہمی کی توقع کرتا ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ کے مطابق، ہر شخص “بے روزگاری، بیماری، معذوری،بیوگی، بڑھاپا یا قابو سے باہر کے حالات اور زندگی کی دیگر بحرانی حالات میں تحفظ کا حق رکھتا ہے۔160
عالمی یوم معذور پر مختلف طرح کی پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں۔ حقوق انسانی اور رضا کار تنظیموں کی جانب سے کمپین کیا جاتا ہے اور معذروں کے کام کے حق کے سلسلے میں بیداری لائی جاتی ہے۔ ریلیاں نکالی جاتی ہیں تاکہ لوگ معذوروں کی امداد کے لیے 160اپنی مرضی سے آگے آئیں اور لوگو ں سے یہ بھی توقع کی جاتی ہے کہ وجسمانی معذور افراد کو فیصلہ سازی میں مدد دیں۔
۱۸۹۱ کو معذوروں کا بین الاقوامی سال قرار دیا گیا تھا اور یکساں مواقع کی فراہمی، معذوری کی روک تھام اور باز آباد کاری کے مشن کے ساتھ کئی منصوبے شروع کیے گئے تھے جن کو قومی، بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر مشتہر کیا گیا تھا۔ افسوس! اس امرکا ہے کہ ہمارے ہاں خصوصی بچوں کی تعلیم و تربیت اور نگہداشت کے حوالے سے منظم نظام موجود نہیں ہے۔ اس مسئلے سے نبرد آزما ہونے کیلئے کم و بیش5ہزار سے زائد اداروں کی ضرورت ہے جو بلاشبہ حکومت اور پبلک سیکٹر کے مشترکہ تعاون سے ہی ممکن ہے۔ پاکستانی معاشرے کا مجموعی رویہ اس حوالے سے انتہائی مایوس کن ہے۔ پورے پاکستان میں سرکاری و نجی 744 سپیشل ایجوکیشن کے ادارے کام کررہے ہیں جن میں سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں سرکاری تعلیمی اداروں کی تعداد صرف 189 ہے۔ لاہور جیسے پاکستان کے دوسرے بڑے شہر میں صرف 46 سپیشل ایجوکیشن سنٹر ہیں، پورے سندھ میں 154 جبکہ ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں صرف 122 جبکہ اسلام آباد جیسے شہر میں سپیشل ایجوکیشن کے سرکاری و غیر سرکاری اداروں کی مجموعی تعداد 36 ہے۔ یہ ہے ہمارا مجموعی مزاج اور یہ ہے ہمارا اپنے خصوصی افراد کے ساتھ رویہ۔
پاکستان کے اندر بھی ہر سال یہ دن منایا جاتا ہے۔ بہت سے سرکاری اور نیم سرکاری ادرے اس دن کی مناسبت سے بہت سی تقریبات منعقد کرتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے بات نعروں اور باتوں سے ابھی تک آگے نہیں بڑھ سکی۔ اگر ہم صرف تعلیمی حوالہ سے بات کریں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ایک سروے رپورٹ کے مطابق ۸۹فیصد خصوصی بچہ تعلیمی سہولیات سے محروم ہیں۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ ہم خصوصی بچوں کو اپنے تعلیمی اداروں میں جگہ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ کچھ تعلیمی اداروں نے شمولیاتی تعلیم کے پروگرامات کا اپنے سکولوں میں آغاز بھی کیا ہے لیکن ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی اس سال کا سلوگن شمولیاتی تعلیم کے ذریعے معذور افراد کے لیے مساوی حقوق کی فراہمی رکھا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ خصوصی بچوں کو تعلیم کے یکساں مواقع ملنے چاہیں تو ہمیں اپنے تعلیمی اداروں کے اندر شمولیاتی تعلیم کے پروگرامات کا آغاز لازما کرنا ہوگا۔ اب تک جن سکولوں نے اس پروگرام کا آغاز کیا ہے ان میں سب سے بڑا نام غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کا ہے، ٹرسٹ اس وقت تقریباِ700 بچوں کی تعلیم و تربیت کا آغاز کر چکا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی و پرائیوٹ تعلیمی اداروں میں شمولیاتی تعلیمی پروگرامات کا آٖغاز کیا جائے۔
شمولیاتی تعلیم کے ساتھ ساتھ فنی تعلیمی پروگرامات بھی خصوصی افراد کے لیے بہت ضروری ہیں تاکہ ابتدائی تعلیم کے بعد وہ کچھ ایسا ہنر سیکھ سکیں کہ معاشرہ کے اندر عزت کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکیں۔ بحثیت ایک عام آدمی ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہمیں جہاں بھی موقع ملے ہم خصوصی افراد کے لیے آواز بلند کریں اور اپنی آواز کو خصوصی افراد کی آواز بناتے ہوئے ایوان اقتدار تک پہنچا ئیں تاکہ عملا خصوصی افراد کے لیے کچھ ہو سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *