عافیہ مومنٹ

ایک اور سنہری موقع ہاتھ آیا ہے ، عافیہ کو امریکہ سے مانگ لیا جائے : ڈاکٹر فوزیہ صدیقی
امریکہ افغانستان سے نکلنے کے لئے پاکستان کی مدد کا طلب گار ہے ۔ مثبت جواب سے ساکھ بحال ہوئی ہے
عمران خان قوم کو مایوس نہیں کریں گے ،قوم عافیہ کی واپسی کی خوشخبری جلد سننے کی متمنی ہے
100دن ہوگئے ،عافیہ کی فیملی سے فون پر بات نہ ہونے پر تشویش ہے ،مذاکرات میں عافیہ واپسی کو سرفہرست رکھا جائے
سفاری پارک سے نیپا چورنگی تک ’’ انسانی حقوق کی تلاش واک ‘‘ سے خطاب ،سیاسی و سماجی جماعتوں اور رہنماؤں نے شرکت کی

کراچی ( ) 15برسوں سے ناحق امریکی قید میں استقامت کے ساتھ ظلم و ستم برداشت کرنے والی قوم کی معصوم بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی ہمشیرہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا ہے کہ ایک اور سنہری موقع پاکستان کے ہاتھ آگیا ہے ۔ امریکہ افغانستان سے بحفاظت واپسی کے لئے پاکستان کی مدد کا طلب گار ہے ۔وزیر اعظم عمران خان امریکہ سے قوم کی بیٹی کو واپس مانگیں ۔آج عالمی یوم انسانی حقوق کے موقع پر وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری عافیہ پر ظلم و ستم اور انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کا نوٹس لیں اور اقوام عالم کے سامنے پرزور صدائے احتجاج بلند کریں ۔ قوم پُر امید ہے کہ موجودہ حکومت اپنی ذمہ داری اور قوم کے وعدوں اور جذبات کا پاس کرتے ہوئے اس سنہری موقع کو ضائع نہیں ہونے دے گی اور عمران خان قوم کو مایوس نہیں کریں گے۔موجودہ حکومت نے امریکی صدر کے خط کے جواب میں اپنی پوزیشن کو زبردست طریقے سے بہتر بنایا ہے اور دنیا بھر میں پاکستان کی اخلاقی ساکھ اور قوت کی بحالی شروع ہوگئی ہے ۔ وہ نیپا چورنگی پر عافیہ موومنٹ کے زیر اہتمام عالمی یوم انسانی حقوق کے موقع پر منعقدہ بہ عنوان ’’انسانی حقوق کی تلاش واک ‘‘ کے شرکاء سے خطاب کررہی تھیں ۔ شرکاء نے قوم کی بیٹی کی تصاویر ،پلے کارڈ اور عافیہ کی جلد وطن واپسی کے مطالبات پر مشتمل بینرز اٹھا رکھے تھے ۔ واک میں مختلف سیاسی و سماجی جماعتوں ،انسانی حقوق کی تنظیمو ،طلبہ ،مزدور اور وکلاء نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ امریکہ افغانستان سے نکلنے کے لئے ہاتھ پاؤں مارہا ہے ۔ ہر جتن کررہا ہے ۔یہ بہترین موقع ہے کہ ہم اس موقع پرامریکہ سے جو بھی مذاکرات اور مدد و تعاون کا فیصلہ کریں اس میں ڈاکٹر عافیہ کی غیر مشروط رہائی اور وطن واپسی کے معاملے کو سر فہرست رکھا جائے ۔ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے سوال کیا کہ کیا عافیہ پاکستانی مسلمان اور ایک انسان نہیں کیونکہ اسے صرف اور صرف پاکستانی اور مسلمان ہونے کی سزا دی جارہی ہے۔جیل میں غیر انسانی سلوک کی خبریں منظرعام پر آچکی ہیں ۔عائشہ فاروقی رپورٹ میں یہ مظالم بے نقاب ہوچکے ہیں ۔عافیہ پر مذہب تبدیل کرنے کے لئے دباؤ ظالمانہ سلوک ہے،انسانی حقوق کے ادارے چپ کیوں ہیں؟ ۔ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا کہ جو قومیں اپنی بیٹوں کی تذلیل پر چپ رہتی ہیں ان کے معاشی معاملات بھی ٹھیک نہیں رہ سکتے ۔ اپنے ملک کے تمام شہریوں باالخصوص بیٹیوں کی عزت و وقارکا تحفظ ریاست کا فرض ہے ۔اس فرض کی ادائیگی کئے بغیر معاشی ترقی کا تصور نہیں کیا جاسکتا ۔امریکی صدر کے خط کے جواب میں عمران خان کے ٹویٹ اور رسپونس نے پاکستان کے وقار اور ساکھ کو پوری دنیا میں بہتر بنا دیا ہے ۔ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا کہ وہ حکومت سے مایوس نہیں ۔ قوم عافیہ کی واپسی کی خوشخبری موجودہ حکمرانوں سے جلد سننے کی متمنی ہے ۔ڈاکٹر فوزیہ نے کہا کہ عمران خان حکومت کو اقتدار میں آئے ہوئے 100دن پورے ہورہے ہیں ۔ عافیہ کی فیملی کو اس بات پر تشویش ہے کہ ان 100دنوں میں عافیہ کی واپسی کے سلسلے میں جو بھی پیش رفت ہورہی ہے ۔اس سے قوم اور عافیہ فیملی کو آگاہ کیوں نہیں رکھا جارہا ۔ عافیہ کی جیل میں حالت زار پر آگاہی اور فون پر فیملی سے گفتگو ہوئے بھی 3برس ہونے والے ہیں۔موجودہ حکومت اس معاملے کو بھی انتہائی سنجیدگی سے لے #
عافیہ موومنٹ – پاکستان : ( محمد ایوب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *