فلپائن میں مسجد پر دستی بم حملہ، 2 افراد جاں بحق

منیلا : فلپائنی شہر زمبونگا میں نامعلوم افراد نے ایک مسجد پر دستی بم سے حملہ کرکے دو افراد کو جاں بحق جبکہ 4 کو زخمی کردیا۔

تفصیلات کے مطابق فلپائن کے شہر زمبونگا میں واقع ایک مسجد کو بدھ کے روز اعلیٰ صبح دستی بم حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں چار افراد زخمی ہوئے تھے۔

مقامی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد بدھ کی صبح مسجد کے اندر دستی بم پھینک کر فرار ہوگئے تھے، حادثے کے وقت مسجد میں متعدد افراد سو رہے تھے جو دھماکے کی زد میں آکر جاں بحق اور زخمی ہوگئے۔

زمبونگا شہر کے مقامی رہنما موجیو ہاتامن نے مسجد پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مسجد پر دستی بم حملے کی کوئی توجیج پیش نہیں کی جاسکتی، عبادت کرنے والوں پر حمہ کرنا بزدلی اور بے شرمی کی اعلیٰ مثال ہے۔

زمبونگا کی علماء کونسل نے مسجد پر دستی بم حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مسجد کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا غیر انسانی، شیطانی اور غیر منطقی عمل ہے، عوام ہوشیاری کا مظاہرہ کریں اور ایک دوسرے کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ تاحال مسجد بم حملے کی ذمہ داری کسی بھی گروپ نے قبول نہیں کی ہے، پولیس نے واقعے کی مقدمہ درج کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔
فلپائنی افواج کے ترجمان نے کہا کہ شہری آپس میں اتحاد و یکجہتی کا یقینی بنائیں اور قیاس آرائیوں سے باز رہیں، مسجد پر حملے کا تعلق تین روز قبل چرچ حملے سے نہیں ہے۔
فلپائن میں مسیحی عبادت گاہ کے قریب دو دھماکے، 27 افراد ہلاک درجنوں زخمی
یاد رہے کہ تین روز قبل فلپائن کے جزیرے جولو میں رومن کیتھولک چرچ کے قریب یکے دیگرے دو بم حملوں میں 27 افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق اتوار کی صبح جزیرے جولو پر پہلا دھماکا اس وقت ہوا جب مسیحی برادری چرچ میں اپنی عبادت میں مشغول تھے جبکہ دوسرا دھماکا پارکنگ ایریا میں اس وقت ہوا جب ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچی۔

مقامی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ مذکورہ حملہ متاثرہ علاقے سے مسلم برادری کے خودمختاری کےلیے منعقد کیے گئے ریفرنڈم کے کچھ روز بعد ہوا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *