اقبال میلہ بغیر کسی سرکاری خرچے کے سجایا گیا۔ظہیر احمد میر

اقبال میلہ بغیر کسی سرکاری خرچے کے سجایا گیا۔ظہیر احمد میر
لوگ کہتے رہے کہ اتنا بڑا ایونٹ ناممکن ہے مگر ہم نے کر دکھایا۔ ڈاکٹر طاہر حمید تنولی۔
(نمائندہ تحریک)علامہ اقبالؒ میلہ و بُک فیئر کے آٹھویں روز تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔جس میں یونیک گروپ آف انسٹی ٹیوٹ 10کالج بلاک کیمپس نے شمولیت اختیار کی۔نعت علی غازی زیدی نے پڑھی۔کلام اقبالؒ عبدالرحمان نے پڑھا جبکہ یونیک گروپ آف انسٹی ٹیوٹ رحمان پورہ کیمپس کے بچوں نے ٹیبلو پیش کیا۔کلام اقبالؒ ترنم کے ساتھ پیش کرنے میں عین النور اور زینب ناصر اور غیاص حیدر نے شمولیت اختیار کی۔
مہمان خصوصی کے طور پر شنیلاروتھ ممبر قومی اسمبلی نے شمولیت اخیتار کی ان کے ساتھ چیئرمین اقبال میلہ ظہیر احمد میر اور سیکرٹری جنرل اقبال میلہ طاہر حمید تنولی نے شرکت کی۔ان کے ہمراہ عمر ظہیر میر نے بھی مہمان خاص کے طور پر اسٹیج پر تشریف رکھی۔اس کے بعد جسٹس نزیر غازی صاحب نے مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی۔ان کے ہمرا زاہد قریشی صاحب بھی تشریف لائے۔ان کے اعزاز میں خطاب کیا عمر ظہیرمیر نے اور شکریہ ادا کیا مہمانوں کا اور اقبال میلہ کی کامیابی وکامرانی کا مرکز قرار دیا چیئرمین اقبال میلہ ظہیر احمد مئیر اور سیکرٹری اقبال میلہ طاہر حمید تنولی کو۔اور بتایا کہ بنا کسی سرکاری خرچے کے اقبال میلہ سجایا گیا۔اس کے بعد طاہر حمید تنولی صاحب نے خطاب کیا اور کہا کہ ہمیں اس نو روزہ میلے میں انعقاد کروانے پر ہمارے ہی ساتھیوں نے ہمیں کہا کہ یہ ممکن نہیں ہے مگر اقبالؒ کے شاہین بن کر سوچا اور کر دیکھایا اور آج اس میلے کا اٹھواں روز ہے ہمیں فخر ہے کہ اقبال کی فکر کو فروغ دینے پر کام کیا۔اس کے بعد جسٹس نذیر غازی نے خطاب کیا اور کہا کہ طاہر حمید تنولی میرے پاس آتے اور کہتے کہ اس پاکستان کی نسل کو اقبال کی فکر میں مبتلا کرنا وقت کی اشد ضرورت ہے


۔طاہر حمید تنولی اس ملک میں ڈبل پی ایچ ڈی ہیں اور ان کا ہیرو علامہ اقبالؒ ہیں اور یہ اقبال کی تصانیف سے معاشرے کو نکھارنے پر کام کر رہے ہیں۔جسے ہم نے اپنایا اور ساتھ دینے کا عہد کیا۔آج ہم اقبال میلہ میں آپ کے سامنے پیش ہیں میں آپ کو امام غزالی ؒ کا قوم بتاتا ہوں کہ ان کا فرمان تھا اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی عزت ہو تو آپ اپنے استاد کی عزت کریں او ر اگر چاہیں کہ رزق کم نہ ہو تو ماں باپ کی خدمت کریں میں بچوں سے خطاب کرکے ان سے بات کرکے بہت فخر محسوس کررہاہوں۔آپ بچے اقبال ؒکے وہ شاہین ہیں جو کل کے پاکستان کو شاندار بنائیں گے آپ کو اس ملک کا سرمایہ اسی لیے کہا جاتا ہے آپ نے پڑھ لکھ کر اس ملک کی تقدیربدلنی ہیں۔اس کے بعد یونیک گروپ آف سکول کے بچوں ٹیبلو پیش کہا جو کلام اقبالؒ پر مشتمل تھا جس کو موٹو معاشرے کو درپیش مسائل میں آسانیاں پیدا کرنا۔


اس کے بعد چیئرمین اقبال میلہ ظہیر احمد مئیر نے خطاب کرتے ہوئے میلے کے انتظامات اور سرکاری تعاون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہم نے اس کو وسیع پیمانے پر لے جانے کے لیے دن رات ایک کر دیں اور حکومت پنجاب نے ہمیں پچاس لاکھ کا فنڈ جاری کرنے کا وعدہ کیا مگر میسر نہ ہو سکا جس سے ہماری حوصلہ شکنی ہوئی مگر ہم نے ہمت نہیں ہاری اور جو ارادہ کیا اس پر عمل کرتے ہوئے آگے بڑھتے رہے اس کا تسلسل ٹوٹنے نہیں دیا اور پختہ ارادہ کر لیا ہے ہم اقبالؒ کی یاد میں تقریب کا سالانہ اہتمام کرتے رہیں گے۔نو نومبر چودہ اگست اکیس ستمبر پر ہم نے علامہ اقبالؒ کی فکر کی ترویج کے لیے منتخب کر لئے ہیں جو انشااللہ تاحیات جاری رکھیں گے۔طاہر حمید تنولی صاحب کو ولی اللہ سمجھتا ہوں جو آسانیاں اور بہتریاں بانٹنے کے لحاظ سے پیش پیش رہتے ہیں مجھے اپنی مخلص ٹیم پر فخر ہے جن کی بدولت یہ سب ممکن ہوا ہم نے لاہور بھر میں فلیکس اور اخبار میں اشتہار کے زریعے لوگوں کو میلے میں شرکت دینے کی کاوش کی گئی لوگوں کا لگاؤ بھی نظر آیا مگر ہماری اصل کوشش ہے اقبالیات پر عمل کروانے کے رستے بنائیں جائیں۔اس کے بعدیونیک سکول کے بچوں کو نمایاں کارکردگی ادا کرنے پر شیلڈ اور اسناد تقسیم کی گئیں۔اور مہمانوں کے ساتھ گروپ فوٹو بنائی گئیں اور اقبال میلہ کو عوامی پزیرائی ملنے پر انتظامیہ کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *