کابینہ ،مراعات اور غریب عوام ۔۔۔ تحریر : ڈاکٹر تصدق حسین

کسی بھی قوم کی ترقی و خوشحالی کا راز اس کی کفایت شعاری، شب و روز کی محنت اور مادر وطن سے وفا ہو تی ہے ۔کسی بھی ملک کی بدحالی اور تنگ دستی کا اندازہ اس کے حکمرانوں کی طرز زندگی اور کثیر کابینہ سے لگایا جا سکتا ہے جو ناصرف سرکاری خزانے پر بوجھ ہوتے ہیں بلکہ وہ خزانے کو بے دردی سے لوٹنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔
قائد اعظم محمد علی جناح نے جب پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کا حلف اٹھایا تو انہوں نے اپنی تنخواہ صرف ایک روپیہ مقرر کی تا کہ اس تنخواہ کو ایک آئینی و قانونی شکل مل سکے ۔پاکستان کے پہلے وزیر اعظم خانزادہ نواب لیاقت علی خان نے اپنی تنخواہ بھی ایک روپیہ رکھی اور اپنی کابینہ مختصر رکھی اور ساتھ ہی سرکار کی طرف سے ملنے والی مراعات کو قبول نہ کیا صرف ضروری سفر اور دوروں پر سرکاری خزانے کا استعمال کیا ۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے الیکشن سے قبل مہنگائی ،بے روزگاری ،انفراسٹریکچر سمیت عوامی فلاح کے بہت سے بلند و باگ دعوے کئے تو دوسری طرف عوام کا ووٹ حاصل کرنے کیلئے مختصر ترین کابینہ رکھنے سمیت سرکاری خزانے پر بوجھ نہ بننے کی بھی نوید سنائی مگر اقتدار میں آتے ہی ناصرف مہنگائی اور بے روزگاری کا نہ رکنے کا طوفان کھڑا کر دیا بلکہ انہی کی کابینہ کے اہم وزیر نے چار سو اداروں کو بند کرنے اور عوام کو ایک کروڑ نوکریوں کی امید سے بھی رسواء کر دیا ۔ایک طرف تو عوام آئے روز کی بڑھتی مہنگائی اور بے روزگاری کے ہاتھوں تنگ آ کر ناصرف غریب عوام خودکشیاں کرنے پر مجبور ہے بلکہ طلبہ اپنی ڈگریاں اٹھائے در در کی ٹھوکریں کھانے پر ہیں۔
سابقہ حکومتوں نے بھی اقتدار کے خوب مزے اڑائے مگر یہ بات قابل غور ہے کہ گزشتہ حکومت نے کسی حد تک ملک کو مستحکم کرنے سمیت مہنگائی اور بے روزگاری کو ختم کر رکھا تھا مگر آنے والی تبدیلی سرکار نے تو نے جیسے سب ہی تبدیل کر کے رکھ دیا ۔بھاری شرائط پر آئی ایم ایف سے قرضہ ،سعودیہ ،عرب امارات سمت چائنہ اور ملیشیاء سے بھی قرض لیا گیا جس کے استعمال بارے تاحال عوام کو نہیں بتایا گیا۔
آج قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران بتایا گیا کہ کابینہ کے ارکان اور وزیر اعظم کے مشیران اور معاونین خصوصی کو ماہانہ 4 لاکھ 48 ہزار روپے بطور بنیادی تنخواہ ادائیگی کی جا رہی ہے، انہیں ایک لگژری سرکاری گھر یا پھر ماہانہ ایک لاکھ 3 ہزار روپے بطور کرایہ ادا کیے جا رہے ہیں۔ سرکاری دوروں کےدوران انہیں 3 ہزار یومیہ الاؤنس الگ سے ادا کیا جاتا ہے۔
انہیں ذاتی اور خاندان کے استعمال کے لئے الگ الگ گاڑی بمعہ سیکیورٹی اور پروٹول کی گاڑیوں ملتی ہیں۔ جن کا فیول اور دیگر اخراجات سرکاری خزانے سے ادا کیے جاتے ہیں۔ ہر ایک کو اس کے سرکاری یا پرائیوٹ گھر میں چار اے سی، ہیٹرز اور ٹیلی فون کے غیر معینہ بل کی سہولت بھی سرکاری خزانے سے دی جا رہی ہے۔
اس وقت عمران خان کی کاینہ میں 25 وفاقی وزرا، 6 وزرائے مملکت،6 وزیر اعظم کے مشیر اور 11 وزیر اعظم کے معاونین خصوصی یہ مراعات حاصل کر رہے ہیں۔ یوں سرکاری خزانے سے لگژری مراعات پانے والے ان افراد کی کل تعداد 48 ہے۔ ان میں سے شہزاد ارباب، عثمان ڈار، نعیم الحق، افتخار درانی، شہزاد اکبر، ذولفی بخاری، شہزاد قاسم، علی نواز اعوان، یوسف بیگ مرزا، ندیم بابر، ظفر اللہ مرزا اور ندیم افضل چن کو سرکاری خزانے سے یہ مراعات صرف اور صرف عمران خان سے دوستی یا تحریک انصاف کی سیاسی سرگرمیوں کے لئے ادا کی جا رہی ہیں۔
20 رکنی کابینہ کا دعویٰ کرنے والے عمران خان کا جہاں یہ ایک اور بڑا یو ٹرن ہے، وہیں اپنے ذاتی دوستوں اور پارٹی ورکرز کو غریب عوام کے ٹیکسوں پر عیش کرانا بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے؟؟؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *