شاعری

ہو ا ہے تماشا

ہو ا ہے تماشا ہم بھی دیکھ آئیں کو ن جیتا اور کون ہارا اقتدار کی رسہ کشی نہ تو جیتا اور نہ وہ ہارا ٹرک بھی ہوے سرمشار لوگ ہوے خوار زندگی ہوی بیزار مزدور ہوا بیروزگار نہ تو مانا اور نہ وہ اقتدار ہو ا مزیدار بس کر پپو یار (عثمان غنی)

سانحہ ماڈل ٹاون کے بعد

سانحہ ماڈل ٹاون کے بعد بے گناہوں کے خون کے بعد زوال تام لکھا ہے سر عام لکھا ہے کشتیاں جو لڑھکنے لگی ہیں کرسیاں جو سرکنے لگی ہیں حیرت کیوں اس پر کہ نظام فطرت ہے جو بونا ہے وہ لینا ہے جو کرنا ہے وہ بھرنا ہے زوال تام لکھا ہے سر عام

اتنا صبر کہاں سے لاؤں

اتنا صبر کہاں سے لاؤں ۔۔۔۔ ہوائوں میں خوشبو گلوں میں رنگ تیرا اتنا صبر کہاں سے لاؤں رخسار پر بارش کے قطرے زلفوں کو اڑا تی ہوائیں اتنا صبر کہاں سے لاؤں دو کلیوں کا ہلنا دو دلوں کا مچلنا اتنا صبر کہاں سے لاؤں جاگتے خواب دیکھنا نقاب کا رخ سے سرکنا اتنا

شائد یہی محبت ہے

تری ان کہی باتوں کو تری آنکھوں سے ترے آنکھ جھپکنے سے پہلے ترے لبوب سے ترے بولنے سے پہلے میں جان جاتا ہوں شائد یہی محبت ہے

وطن کاگیت

اے پیارے وطن تیری ہرچیزپیاری ہے دیکھوجشن آزادی کی ہرگھرمیں تیاری ہے پرچم کاسماں آیا جھنڈیوں کی بہارآئی پرچم لہراتے ہیں خواہ گھرہویاگاڑی ہے جب ماہِ اگست آئے فورٹی سیون(1947)پلٹ آئے بدلہ خون شہیدوں کا یہ دھرتی ساری ہے ہرفردپہ لازم ہے احترام آزادی کا جس کی خاطرلاکھوں نے جان اپنی واری ہے سب شکربجالاؤ

اُسی کے نور سے ہم انحراف کر بیٹھے

کبھی غرور پہ ہم اعتراف کر بیٹھے محبتوں سے کبھی اختلاف کر بیٹھے کبھی دھنک کے بدن پر لحاف کر بیٹھے کبھی مہک کی روش پر غلاف کر بیٹھے ہمارے چہرے پڑھے انکشاف کر بیٹھے اُن آئینوں کی خرد پر شگاف کر بیٹھے یہ خاکِ جسم کریدا تو دل ملا آخر اُسے بھی خاک میں

مجھے خط ملا ہے غنیم کا

مجھے خط ملا ہے غنیم کا بڑی عجلتوں میں، لکھا ہوا کہیں۔۔ رنجشوں کی کہانیاں کہیں دھمکیوں کا ہے سلسلہ مجھے کہہ دیا ہے امیر نے کرو۔۔۔۔حسنِ یار کا تذکرہ تمہیں کیا پڑی ہے کہ رات دن کہو۔۔۔۔ حاکموں کو برا بھلا تمہیں۔۔۔۔ فکر عمر عزیز ہے تو نہ حاکموں کو خفا کرو جو امیرِ

کہنے کو مرے ساتھ دغا بھی نہیں کرتا

کہنے کو مرے ساتھ دغا بھی نہیں کرتا وہ شخص مگر وعدہ وفا بھی نہیں کرتا دریا کے کناروں کی طرح ساتھ ہے میرے ملتا وہ نہیں ہے تو جدا بھی نہیں کرتا آئینے وہ احساس کے سب توڑ چکا ہے کس حال میں ہوں میں یہ پتہ بھی نہیں کرتا پوجا ہے تجھے جیسے

نعت شریف

ہے کیسے دنیامیں تیری جینایہ میں نے اپنے نبیؐ سے سیکھا ہے تلخ باتوں کوکیسے پینایہ میں نے اپنے نبیؐ سے سیکھا زمانے بھرکے فلاسفہ توہیں جی کے مرناہی بس سیکھاتے ہے کیسے مرنے کے بعدجینایہ میں نے اپنے نبیؐ سے سیکھا ہے کیسے اوروں کوزخمی کرنایہ گرتوسارازمانہ جانے ہے کیسے اوروں کے زخم سینایہ