اتنا صبر کہاں سے لاؤں

اتنا صبر کہاں سے لاؤں ۔۔۔۔
ہوائوں میں خوشبو
گلوں میں رنگ تیرا
اتنا صبر کہاں سے لاؤں
رخسار پر بارش کے قطرے
زلفوں کو اڑا تی ہوائیں
اتنا صبر کہاں سے لاؤں
دو کلیوں کا ہلنا
دو دلوں کا مچلنا
اتنا صبر کہاں سے لاؤں
جاگتے خواب دیکھنا
نقاب کا رخ سے سرکنا
اتنا صبر کہاں سے لاؤں
چاندنی کی چمک
اور عازض کا چمکنا
اتنا صبر کہاں سے لاؤں
وجود کا قرب پانا
بار بار دل کو سمجھانا
اتنا صبر کہاں سے لاؤں
زلف کے سائے میں رہنا
خال سے خیال کا سفر کرنا
اتنا صبر کہاں سے لاؤں
راستے کو دیر تک تکنا
دروازے کو کھلا رکھنا
اتنا صبر کہاں سے لاؤں
انتظار روشنی کا کرنا
روشنی میں بند آنکھیں کرنا
اتنا صبر کہاں سے لاؤں
دھڑکنوں کا تیز ہونا
ہونٹوں کا کپکپانا
اتنا صبر کہاں سے لاؤں
جذبات میں تلاطم
آنچل کو گرا کر اٹھانا
اتنا صبر کہاں سے لاؤں
بادلوں میں چاند کا چھپنا
دروازے کے پیچھے سے تکنا
اتنا صبر کہاں سے لاؤں
دھڑکتے دل کی صدائیں
ہر آہٹ پہ گماں تیرا
اتنا صبر کہاں سے لاؤں
چڑیوں کی چہچہاہٹ
تیری آواز کا سرگم
اتنا صبر کہاں سے لاؤں
دبے قدموں سے آنا
شرما کے چلے جانا
اتنا صبر کہاں سے لاؤں
شاخوں کا ہلنا
نظروں کا جھکنا
اتنا صبر کہاں سے لاؤں
چوڑیوں کی کھنکھناہٹ
ہاتھوں کا چھوڑا نا
اتنا صبر کہاں سے لاؤں
آبشار کا ہاتھوں کو لمس کرنا
مالا کا ٹوٹ کر بکھرنا
اتنا صبر کہاں سے لاؤں
چاندنی نہلاتی رہی
ہوائیں گدگداتی رہیں
اتنا صبر کہاں سے لاؤں
رنگوں کو ہاتھوں سے چھونا
ہاتھ کو مانگ پہ دھرنا
اتنا صبر کہاں سے لاؤں
جاتی بہار کا دکھ
مڑ مڑ کر دیکھنا
اتنا صبر کہاں سے لاؤں
وقت کی قید سے آزاد
فاصلے مٹ گئے
اتنا صبر کہاں سے لاؤں
ہاتھوں سے ریت کا نکلنا
دھڑکنوں کا تھمنا
اتنا صبر کہاں سے لاؤں
جو فاصلوں کو گھٹا دے
جو دھڑکنوں کو ملا دے
جو صبر کو صبر آجائے
اتنا صبر کہاں سے لاؤں
محمد امانت اللہ) ۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *