آزادکشمیر میں تعلیمی معیار کو تباہ کرنے والے کشمیر ٹیکسٹ بُک بورڈ کی جعلی تقرریاں

آزادکشمیر میں تعلیمی معیار کو تباہ کرنے والا کشمیر ٹیکسٹ بُک بورڈ کی جعلی تقرریاں اور کمیشن کی خاطر پاکستان کے دیگر صوبوں کو دیے جانے والے ٹھیکوں کا سلسلہ ختم نہ ہوسکا
مظفرآباد( ویب ڈیسک) آزادکشمیر میں تعلیمی معیار کو تباہ کرنے والا کشمیر ٹیکسٹ بُک بورڈ کی جعلی تقرریاں اور کمیشن کی خاطر پاکستان کے دیگر صوبوں کو دیے جانے والے ٹھیکوں کا سلسلہ ختم نہ ہوسکا جبکہ آزادکشمیر میں اِ س سال دی جانے والی کتابوں میں غلطیاں دور نہ ہوسکی ٗ جبکہ مختلف ٹیچر تنظیموں کے احتجاج پر بھی وزیرِ تعلیم افتخار گیلانی نے بجائے نوٹس لینے کے کشمیر ٹیکسٹ بورڈ کومضبوط کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں جِس پر آزادکشمیر بھر کے اساتذہ اور علماء نے شدید مذمت کرنے کا اعلان کردیا۔تفصیلات کے مطابق آزادکشمیر میں کشمیر ٹیکسٹ بورڈ کی میرٹ اور گُڈ گورننس سے ہٹ کر قیام پر اساتذہ اور دیگر اداروں کو تحفظات سامنے آئیں ہیں جِن میں سب سے بڑی وجہ اسلامیات سمیت دیگر کتابوں میں سینکڑوں کے حساب سے غلطیاں جبکہ کتابوں کی قیمتوں میں 50سے60%فیصد اضافے پر عوام اور دیگر تنظیموں نے احتجاج بھی ریکارڈ کروایا مگر حکومتِ آزادکشمیر نے اِس پر عمل لینے کے بجائے خاموشی ظاہر کی ، کشمیر ٹیکسٹ بورڈ نے ریاستی پبلشرز کو ٹھیکے دینے کے بجائے پنجاب ،خیبر پختون اور سندھ پبلشرز کو ٹھیکے دے کر ریاستی پبلشرز کا معاشی قتل کیا ہے جبکہ کشمیر کونسل کو جانے والا فائدہ خیبر پختون خواہ ، سندھ اور پنجاب کو جانے لگا جِس پر آزادکشمیر کے ریٹائرڈ ٹیچروں نے شدید احتجاج کیا اُن کا مطالبہ تھا کہ آزادکشمیر میں شروع سے جو ادارہ کتابیں مارکیٹ میں لارہا ہے اُس کے ذمے کیا جائے مگر حکومتی ایوانوں میں موجود وزراء نے بھاری کمیشن کے عوض کشمیر ٹیکسٹ بورڈ کو سامنے لے آئے جِن میں تقرریوں کا نہ تو کوئی نوٹیفکیشن سامنے تھا اور نہ ہی کسی اخبار میں اشتہار دیا گیا بلکہ ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ کو خبر تک نہ ہوئی ! کشمیر ٹیکسٹ بورڈ قائم ہوگیا جِس میں معتبر زرائع کے مطابق آزادکشمیر کے ایوانوں میں پاکستانی ٹھیکداروں کی جانب سے قیمتی گاڑیاں ، عالی شان کوٹھیاں اور تحفہ دے کر منہ بند کردیا مگر کشمیر ٹیکسٹ بورڈ کی جانب سے مارکیٹ میں آنے والی کتابوں کی وجہ سے تعلیمی معیار مکمل طور پر تباہ ہوکر رہ گیا کتابوں کے اندر غلطیاں بھی درست نہ ہوئی آزادکشمیر کی عوام اور ٹیچروں نے وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان اور وزیرِ تعلیم بیرسٹر افتخار گیلانی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ،کشمیر ٹیکسٹ بورڈ ختم کرکے آزادکشمیر کا معاشی قتل بند کریں نہیں تو عوا م اور ٹیچر احتجاج کیلئے سڑکوں پر نکل آئینگے ، ہماری تنخواہوں سے کٹوتی کی جانے والی رقم پر کھوکھلی بنیادوں پر قائم کشمیر ٹیکسٹ بورڈ کو عیاشیاں نہیں کرنے دیں گے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *