بھارتی حکمران تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کررہے ہیں ‘سید علی گیلانی

بھارتی حکمران تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کررہے ہیں ‘سید علی گیلانی
تحریک حریت کو خاص طور پر ہدف بنایا گیا ہے اور اس کے رہنماؤں کے خلاف باضابطہ مہم شروع کی گئی ہے
جب تک مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق نہیں دیا جاتاہماری جدوجہد ہر صورت میں جاری رہے گی‘بیان
سری نگر(ویب ڈیسک)مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چےئرمیں سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ بھارتی حکمران تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کررہے ہیں اور وہ اس کے ذریعے کشمیر کی تحریکِ آزادی کو کمزور کرانا چاہتے ہیں۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق سید علی گیلانی نے ہفتہ کو سرینگر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کی مجلس شوریٰ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بھارتی حکمران جموں وکشمیر کی مسلمہ قیادت کو ہراساں اور بدنام کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور اس سلسلے میں تحریک حریت کو خاص طور پر ہدف بنایا گیا ہے اور اس کے رہنماؤں کے خلاف باضابطہ مہم شروع کی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ دہلی کے پالیسی ساز ہماری کنپٹی پر بندوق رکھ کر ہمیں اپنے نصب العین سے دستبردار کرانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک کشمیریوں کی رائے کا احترام نہیں کیا جاتا اور انہیں اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق نہیں دیا جاتا اس وقت تک ہماری جدوجہد ہر قیمت پر اور ہر صورت میں جاری رہے گی۔ انہوں نے کہاکہ بھارت کا ظلم اور جبر اس جدوجہد کو روک نہیں سکتا اور نہ این آئی اے کے ذریعے چلائی جانے والی مہم اس پر اثر اندازہوسکتی ہے۔انہوں نے بھارتی پالیسی سازوں پر زوردیا کہ وہ ان ہتھکنڈوں کو بار بار آزمانا بند کردیں جو ناکام ثابت ہوچکے ہیں اور جن کا 7دہائیوں میں کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے۔سید علی گیلانی نے کہاکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ تنازعہ کشمیر کی سنگینی میں اضافہ ہورہا ہے اورکشمیری عوام کا عزم اور جذبۂ آزادی مضبوط ہوتا جارہا ہے۔اجلاس میں حریت رہنماؤں حاجی غلام نبی سمجھی، بلال صدیقی، غلام احمد گلزار، محمد یٰسین عطائی، ایڈوکیٹ محمد شفیع ریشی، یاسمین راجہ، محمد شفیع لون، محمد یوسف ندیم، حکیم عبدالرشید، غلام محمد ناگو، محمد یوسف نقاش، مولوی بشیر، سید محمد شفیع، امتیاز احمد شاہ، شیخ ضمیر احمد اور ایاز اکبر نے شرکت کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *