پاکستان میں شہید بننا مشکل کب تھا ..احمر اکبر

پاکستان دنیا کا واحد ایسا ملک ہے جہاں شہداء کی تعداد پوری دنیا کے شہداء کی تعداد سے زیادہ ہے آپ پوچھیں گے کیوں ؟ تو اس کا جواب حاضر ہے پاکستان میں ایک سیاسی جماعت ایسی بھی ہے جس کے کارکنان سڑیٹ کرائم ،بھتہ وصولی اور دیگر سنگین وارداتوں میں ملوث ہونے کے بعد پولیس یامخالف گینگ کے ہاتھوں مارے جائیں تو ان کو شہید کہا جاتاتھا مطلب ایک کریمنل کو شہید بنا کر ہڑتال کروائی جاتی تھی ان کے لیے الگ قبرستان بنایا گیا تھا ان کے خاندان والوں کو تنظیم والے مکمل سپورٹ کرتے تھے اور تو اور پاکستان میں آج کل روڈ ایکسیڈنٹ سے مرنے والوں کو بھی شہید کہہ کر ان کو حکومتی امداد کا چیک تھما دیا جاتا ہے۔۔۔ فرقہ واریت کی جنگ میں مرنے والوں کو بھی شہید کا درجہ ملتا ہے شعیہ، سنی جنگ میں میں مرنے والے تمام احباب شہداء ہیں ۔بم دھماکوں میں مرنے والے تمام افراد کو بھی شہید کہا جاتا ہے کیونکہ شہید ہونے کے لیےکسی بھی مولوی کی تصدیق کی ضرورت نہیں ہوتی ،حکومتی وزراء ، میڈیا اور لواحقین خود ہی ان کو شہید کا درجہ دے چکے ہوتے ہیں ۔ہمارے ملک میں نوجوان جو قبضہ گروپ کا رکن ہو۔ اگر وہ قبضہ لیتے ہوے اپنی جان کی بازی ہار جائے تو اس کو بھی شہید کہا جاتا ہے ۔پولیس کی حراست میں مرنے والا قیدی بھی شہید بنا دیا جاتا ہے ۔کچھ دن پہلےہمارے شہر میں جائیداد کے تنازع میں ایک بھائی نے دوسرے بھائی کو قتل کر دیا تو اگلے دن مجھے ایک معزز انسان نے بتایا کہ آپ کو پتہ ہے کل ایک کم بخت بھائی نے اپنا بھائی کو شہید کر دیا ۔خیر میں کچھ بھی نہ کہہ سکا ۔ہمارے ملک کے سیاستدان اگر روڈ ایکسیڈنٹ میں مارے جائیں بے شک انھوں نے شراب تک پی رکھی ہو ان کی پارٹی ان کو شہید کا درجہ دے دیتی ہے پاکستان میں تو ماشاءاللہ ایک سیاسی پارٹی ایسی بھی ہے جس کے سربراہ عموماً شہید ہوتے ہیں یا کر دئے جاتے ہیں اور وہ فخریا انداز میں اپنی شہادت کو کیش کرتے ہیں ۔
پاکستان میں آپریشن ضرب عضب جاری تھا ان دنوں پاک فوج کا جو بھی جوان لڑتے ہوے جام شہادت نوش کرتا وہ تو فوجی اعزاز کے ساتھ دفنایا جاتا مگر طالبان کے دہشتگردوں کو بھی ان کے رفقاء شہید کا درجہ دیتے تھے ۔ہمارے ملک کے اہم سیاسی راہنما نے خود کہا کہ طالبان شہید ہیں فوجی بھی شہید ہیں طالبان بھی شہید ہیں ۔۔۔میں بہت بڑی کشماکش کا شکار تھا کہ آخری ان سب میں سے اصل شہید کون ہے ابھی میرا یہ معمہ حل نہیں ہوا تھا کہ عید سے ایک دن پہلے احمد پور شرقیہ کے ایک موضع کے ان پڑھ لوگ تیل اکٹھا کرنے کے لیے جنون کی حد تک پہنچ گئے کہ ان کو انسان سے راکھ ہونے میں صرف ایک منٹ لگا ان کے لالچ اور کم علمی کی وجہ سے یہ سانحہ تو پیش آ گیا تھا مگر اب ان کو شہید کہنا شروع کر دیا گیا اور تو اور بلوچستان کے کے ایم پی اے کی گاڑی کی ٹکر سے مرنے والے سارجنٹ کے لیے پہلے تو کسی نے آواز نہیں آٹھائی سوشل میڈیا پر ویڈیو وئرال ہوتے ہی یہ ویڈیو تمام میڈیا مالکان کے لیے ایک بریکنگ نیوز بن گئی اور آج تو ہمارے چیف جسٹس صاحب نے بھی از خود نوٹس لے لیا تھا مگر یہ کیا ہوا ۔۔۔۔۔۔اچکزئی صاحب نے اثرورسوخ استعمال کرتے ہوتے سارجنٹ کے لواحقین سے راضی نامہ کر لیا ۔مجھے اس راضی نامے پر اعتراز کبھی نہ ہوتا اگر میں اس کی ایک شرط خود نہ پڑھتا۔اس میں صاف صاف لکھا ہے کہ اچکزئی صاحب نے ہمارے مطالبات تسلیم کر لیے ہیں اس لیے ہم ان سے صلح کرتے ہیں اور کیس میں ان کی مدد کریں گے کیونکہ انھوں نے ہمارے سارجنٹ کو شہید کا درجہ دلوانا ہے اور پوری سروس کی تنخواہ بھی لے کر دیں گے ان کے بیٹے کو سرکاری نوکری دی جاے گی عیدی کے لیے دو لاکھ روپے نقد موقع پر ادا کردئیے گئے ہیں
پاکستان میں شہید بننے کے لیے کشمیر کی طرح بھارتی فوج سے لڑنے کی ضرورت نہیں ہوتی یہاں کوئی بھی شہید کا درجہ حاصل کر سکتا ہے۔
اِسلام میں شہید اُس شخص کو سمجھا اور کہا جاتا ہے جو اللہ کی راہ میں جان قربان کرتا ہے ، اللہ کی راہ میں مارا جاتا ہے ، ۔ اسلام میں شہید کا مرتبہ بہت بلند ہے اور قرآن کے مطابق شہید مرتے نہیں بلکہ زندہ ہیں اور اللہ ان کو رزق بھی دیتا ہے

مجھے اب مکمل یقین ہو چکا ہے کہ آنے والے پچاس سالوں میں پاکستان کے ہر گھر سے ایک شہید ضرور نکلے گا کیونکہ اب شہید بننا مسلمان بننے سے کہیں زیادہ آسان عمل ہے مسلمان بننے کے لیے آپ کو پانچ وقت کا نمازی بننے کے ساتھ ساتھ اسلام کے باقی احکامات کو ماننا پڑتا ہے مگر شہید بننے کے لیے آپ کو بس اپنی جان دے کر میڈیا کورئج کروانی پڑے گی باقی کام عوام اور حکومتی ارکان خود کر لیتے ہیں اور آپ کانام بھی اچھے خاصے شہداء کی لسٹ میں لکھ لیا جاتا ہے ۔
کچھ عرصہ پہلے ایک خودکش بمبار جو کہ اپنے ساتھ بیس لوگوں کی جان لے گیا تھا کے گھر والوں سے پوچھا کہ آپ کے بیٹے یہ یہ حرکت کی ہے تو اس کی ماں نے کہا وہ شہید ہوا ہے اور وہ جنتی ہے ہمارے لال کو کچھ نہ کہو ۔۔۔۔۔
اس دن سے میں شہیدوں کو کچھ نہیں کہتا کیا پتہ کل کو ہم کو بھی کسی وجہ سے قتل کر دیا جاے اور اگلے دن شہید کے بینرزلگا دئیے جائیں اس لیے پاکستان کی شہیدوں کو سلام پیش کرتا ہوں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *