ابھی انصاف ہونا باقی ہے

پاکستان میں انصاف انکے لئے ہے جو سرکاری اور سیاسی اثر رسوخ رکھتے ہیں ، جو سرکاری محکموں میں اعلی عہدوں پر فائز ہیں ، جن کے پاس تعلقات ہیں جن کے پاس مال و دولت ہے۔پاکستان میں ایک عام آدمی محنت ، مشقت اور گالیاں کھانے کیلئے پیدا ہوتا ہے یا پھر ان سے کچھ وقت میسر آجائے تو لائنوں میں لگ جاتا ہے ۔یہی عام آدمی معاشرے کی اس تقسیم سے مایوس ہوکر خود کشی بھی کرلیتا ہے اور جب بغاوت کرتا ہے تو چور ڈاکو بن جاتا ہے اور اپنے اور اپنے جیسوں پر ظلم اور بربریت کے پہاڑ توڑنے والوں کی زندگی اجیرن کرنے کی ٹھان لیتا ہے۔

جب ہم چھوٹے تھے تب سے یہ سنتے آرہے ہیں کہ وقت بدل رہا ہے ، دیکھا جائے تو دیواروں پر آویزاں گھڑیوں میں تو سوئی کی رفتار کے ساتھ ساتھ وقت بدلتا ہی رہتا ہے۔وقت کی تبدیلی سے وہ لوگ بھی علم کے علم بردار ہوچکے ہیں جن کا علم سے دور دور تک کا کوئی واسطہ نہیں ۔ بچوں کی پرورش سے لے کر بڑے بڑے مذہبی اور معاشرتی مسائل پر سماجی میڈیا پر بھرپور مباحثے دیکھنے کو ملتے ہیں مگر انسان کے برتاؤ میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نظر نہیں آرہی جو ہوا میں معلق تھا وہ آج کتنی نسلیں گزر جانے کے بعد بھی ہوا میں ہی معلق ہے زمین پر پاؤں رکھنے کو تیار ہی نہیں ہے یا پھر یہ زمین اسکے پاؤں رکھنے کے قابل نہیں ہے۔ علم کی روشنی سے آنکھیں خیرہ ہوئی جاتی ہیں اور یہ روشنی چار سو پہل گئی ہے اس روشنی نے عقل کے اندھوں کی بھی آنکھیں کھول دی ہیں ، راتوں میں بھی اب تاریکی نہیں ہوتی ایسی ایسی مصنوعی ایجادات ہوچکی ہیں کہ عقل پر عقل دنگ رہے بغیررہ نہیں سکتی۔

ترقی کے ایسے دور میں بھی ہم پاکستانی اپنی اپنی منزلوں پر پہنچنے کیلئے ذرائع امد و رفت کی بنیادی سہولیات کے لئے گھنٹوں گھنٹوں انتظار میں کھڑے رہتے ہیں۔ ہم نے وقت کو اس طرح سے بہت ضائع کیا ہے جسکی وجہ سے شائد ہمارا وقت بدلنے سے رہ گیا ہے۔ ہم نے اپنی ہر ناکامی کو بے زبان وقت کے کاندھوں پر لاد دیا ۔ ہم نے کوشش نہیں کی ہم تنقید اور تنقید ہی کرتے رہ گئے اور جب کچھ کرنے کا وقت آیا تو اپنی ذمہ داری نبھانے سے منہ پھیر لیا۔

اب سے پہلے بھی بہت سارے ایسے فیصلے ہوئے ہونگے جن میں اربابِ اختیار کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی کوشش کی گئی ہوگی مگر محدود ذرائع ابلاغ اور وسائل کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قانون ان لوگوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکا۔ پاکستان ایک بار پھر قانون کی بالادستی کے تاریخی موڑ پر کھڑا ہے موجودہ وزیراعظم اور انکے خاندان پر کرپشن کا کیس چلایا گیا اور ملک کی سب بڑی عدالت کے حکم پر ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی جسے تاریخ جے آئی ٹی کے نام سے یاد رکھے گی اور اس میں کام کرنے والے قابلِ احترام سرکاری افسران کو خراجِ عقید ت پیش کرتے گی کہ انہوں نے طاقتور وزیرِاعظم کے خلاف تحقیقات کیں اور اس کی ایک تفصیلی رپورٹ سپریم کورٹ میں معینہ مدت میں پیش کی۔ لڑائی قانون کی تھی مگر مخصوص حلقوں نے سیاسی لڑائی بنا کر پیش کیا ، یہ ایک ایسی لڑائی تھی جسے انتقام بھی نہیں کہا جاسکتا تھا۔ ہمارے یہاں ارباب اختیار کے غلط کو غلط بھی نہیں کہا جاسکتا اور کہنے والے کے ساتھ کیا ہوتا ہے یہ بھی ہم سب جانتے ہیں۔ ترقی نے ہمارا کچھ بھی نہیں بگاڑا ہم نے ایک سے ایک موبائل فون اپنے اپنے ہاتھوں میں رکھے ہوئے ہیں اور ان کی بدولت دنیا جہان سے رابطے میں رہتے ہیں مگر ہم لائن میں لگ کر ایک بل جمع کرانے کیلئے تیار نہیں ہم ٹریفک سگنل پر ایک منٹ کیلئے ٹہرتے نہیں ہیں۔

اس سارے گرما گرم ماحول پر وہ چھوٹے چھوٹے چور اور کرپٹ لوگ جو بہت گہری نگاہ رکھے ہوئے تھے اب کچھ نا کچھ سد باب کرنے کیلئے بھاگ دوڑ شروع کردی ہوگی اور مسجدوں کے چکر بھی لگانے شروع کردئیے ہونگے۔ یہ بات تو طے ہے کہ اگر آپ نے کوئی قابلِ سزا جرم کیا ہے تو اسکی سزا آپکو بھگتنا پڑے گی۔ ایسے بے تحاشہ واقعات سے اوراق بھرے پڑے ہیں جن کو پڑھنے سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مجرم کسی غلط فہمی میں پکڑا گیا اور اصل کہانی کھل کر سامنے آگئی۔ پاکستان میں اصل انصاف کا بول بالا تب ہی ہوگا جب ایک چھوٹے سے چھوٹے عہدے پر کام کرنے والا بھی کسی بھی قسم کرپشن کو اپنے قریب نا پھٹکنے دے اور ایسا تب ہی ممکن ہوگا جب قانون نافذ کرنے والے ادارے قانون کی بالادستی کی راہ میں کسی کو بھی حائل نا ہونے دیں اور پاکستان حقیقی معنوں میں ترقی اور خوشحالی کی منہ بولتی تصویر بن جائے۔

اب کرپشن زدہ افراد کی فہرست مرتب کرکے اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعہ عوام تک پہنچانی چاہئے اور ان افراد کو ایک موقع دینا چاہئے کہ وہ ملک و قوم کی لوٹی ہوئی رقم واپس کریں ورنہ قانونی چارہ جوئی کیلئے تیار ہوجائیں۔ انصاف کے حصول کی اس جدوجہد کا سہرا پاکستان تحریک انصاف نا دینا اخلاقی زیادتی ہوگی۔ ہر وہ فرد جس نے انصاف کے حصول میں مشکلات کو نظر انداز کرتے ہوئے حق اور سچ کا ساتھ دیا وہ قابل ستائش ہے ۔ یہی ہمارا قومی فریضہ ہے اور یہی پاکستانی قوم ہے۔ ہمیں آئیندہ ہونے والے انتخابات میں ایسے نمائندے چنے ہیں جو صرف اور صرف پاکستان اور پاکستانیوں کی خدمت کے جذبے سے سرشار ہوں۔ پاکستان کو بدلنے کا فیصلہ بھی ہمیں کرنا ہے اور اپنے ووٹ کی طاقت سے بدلنا بھی ہمیں ہی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *