ڈاکٹر طاہرالقادری بھی میدان میں

نواز شریف فوری استعفیٰ دیں،مزید برداشت کرنے سے ملک کا نقصان ہو گا : ڈاکٹر طاہر القادری
ڈاکو راج سے نجات کیلئے ہمارے 23 کارکنوں نے جانیں دیں: سربراہ عوامی تحریک
2 ہزار سے زائد پر دہشتگردی کے مقدمات بنے، 25 ہزار سے زائد حبس بے جا میں رکھے گئے
15 جولائی کے احتجاج میں کارکن بھرپور شرکت کریں، باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ سامنے لائی جائے
آئین کے آرٹیکل 62اور 63 پر عملدرآمد اور اس کا شعور قوم کو ہم نے دیا، سربراہ عوامی تحریک گفتگو

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ نواز شریف کا جرم ثابت ہو چکا فوری استعفیٰ دیں انہیں مزید برداشت کرنے سے ملک کا نقصان ہو گا ۔چہرے نہیں نظام بدلنے سے ملک کے حالات بدلیں گے۔کرپٹ خاندان کی سیاست کا خاتمہ ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے۔ 15 جولائی کو مال روڈ لاہور پر ہونے والے احتجاج میں کارکن شرکت کریں یہ احتجاج شہدائے ماڈل ٹاؤن کے انصاف اور جسٹس باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ کے حصول اور گو نواز گو کیلئے ہے، ڈاکو راج کے خاتمے کیلئے جدوجہد کرتے ہوئے ہمارے 23 کارکنوں نے جانیں دیں، 2 ہزار سے زائد دہشتگردی کے جھوٹے مقدمات درج ہوئے اور 25 ہزار کارکنوں کو حبس بے جا میں رکھا گیا، موجودہ قاتل، لٹیرے حکمران پھانسیاں چڑھیں گے تو سب سے زیادہ ہمیں خوشی ہو گی۔ وہ گزشتہ روز عوامی تحریک کی سنٹرل کورکمیٹی کے ممبران سے خطاب کررہے تھے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ ماضی میں موجودہ معاشی دہشتگرد حکمرانوں کے خلاف درجنوں کرپشن کے کیس بنے، ریفرنس بنے مگر ان کا احتساب نہ ہو سکا یہاں تک کہ موجودہ جے آئی ٹی نے بھی اپنی رپورٹ میں لکھا کہ سرکاری اداروں سے ریکارڈ مانگا جو انہوں نے جزوی دیا یا ریکارڈ کے من پسند حصے دیے۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ غیر معمولی ہے اور ہمیں اس کی خوشی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ اس رپورٹ کی روشنی میں ان لٹیروں کو جلد سے جلد جیلوں میں ڈالا جائے اور انہیں کسی قسم کا ریلیف نہیں ملنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کرپٹ اشرافیہ کے خلاف ہماری جدوجہد 27 سالوں پر محیط ہے۔انہوں نے کہا کہ 15 جولائی کے احتجاجی جلسہ سے خطاب کروں گا اور بہت ساری باتیں ہونگی۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ اس ملک میں آئین کے آرٹیکل 62اور 63 پر عملدرآمد کا مطالبہ ہم نے کیا اور پہلی بار قوم کو بتایا کہ یہ آرٹیکل کیا ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *