شرجیل میمن کی 5 اپریل تک حفاظتی ضمانت منظور

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے شرجیل میمن کیحفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے 200 لاکھ روپے کے مچلکے داخل کرانے کا حکم دے دیا۔

سماعت کے دوران وکیل نیب نے شرجیل میمن کو حفاظتی ضمانت دینے کی مخالفت کی۔ نیب پراسیکیوٹر نے موقف اختیار کیا کہ لاہور ہائیکورٹ بھی شرجیل میمن کیحفاظتی ضمانت کی درخواست مسترد کر چکی ہے۔ جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے ریمارکس میں کہاشرجیل میمن نے عدالت کے سامنے سرنڈر کیا۔ بتایا جائے کیوںحفاظتی ضمانت نہ دی جائے؟۔

وکیل نیب نے کہا احتساب عدالت شرجیل میمن کو مفرور قرار دے چکی ہے اب ایسی صورتحال میں یہ ضمانت غیر معمولی ہو گی۔ اس پر جسٹس اطہر من اللہ نے کہا عدالت نے صرف یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا انکو حفاظتی ضمانت دی جا سکتی ہے یا نہیں۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہاشرجیل میمن نے حفاظتی ضمانت کا غلط استعمال کیا۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا فیصلے موجود ہیں اگر مفرور ملزم سرنڈر کرے تو ضمانت قبل از گرفتاری میں کوئی قباحت نہیں۔

شرجیل میمن نے عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا آج عدالت نے مجھے انصاف دیا جس کے لئے شکر گزار ہوں۔ میرے خلاف چودھری نثاراینڈ کمپنی کام کررہی ہے۔ ان کیسز میں 15، 16 لوگ پہلے ہی ضمانت پر ہیں، ان کا مزید کہنا تھا یہ ریفرنس میری غیر موجودگی میں دائر کیا گیا اور اکتوبر 20166 میں میرے خلاف ریفرنس بنایا گیا تھا۔

واضح رہے کہ شرجیل انعام میمن نے 2015 میں خود ساختہ جلا وطنی اختیار کرلی تھی، تقریباً 2 سال تک وہ بیرون ملک رہنے کے بعد 18 اور 19 مارچ کی درمیانی شب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچے تو انہیں قومی احتساب بیوروکے اہلکاروں نے 55 ارب روپے کی کرپشن کے الزام میں ایئرپورٹ سے ہی گرفتار کر لیا تھا۔ تاہم 2 گھنٹے تک پوچھ گچھ کرنے اور ضمانتی کاغذات دیکھنے کے بعد رہا کردیا تھا۔

13,560 total views, 2 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *