بحریہ انکلیو ، ریکارڈنگ کے دوران سٹیج گرنے سے متعدد ہلاک سو سے زائد زخمی

اے آروائی کے پروگرام عیدی سب کے لئے کی ریکارڈنگ کے دوران ۲۰ فٹ بلند سٹیج گر گیا خواتین بچوں سمیت کئی لوگ دب گئے ۔ لوگوں کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں۔
جیسے ہی سٹیج گرا منتظمین نے لائیٹس بند کر دیں تاکہ کوئی تصویر نہ بنا سکے ، زخمی گھنٹوں تڑپتے رہے اور مدد کے لئے پکارتے رہے ۔

(روزنامہ تحریک )۲۸ اپریل کی شام اے آر وائی کے پروگرام عیدی سب کے لئے کی ریکارڈنگ کے دوران ۲۰ فٹ اونچا سٹیج گرنے سے ۲ افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوئے مگر یہ خبر کسی بھی ٹی وی چینل نے نشر نہ کی بلکہ جس ٹی وی کا پروگرام تھا اس نے بھی اس کے بارے میں ایک ٹکر تک نہ چلایا ۔ اس حادثے کے بلیک آوٹ نے آزاد میڈیا کا پول کھول کر رکھ دیا ۔ اک پٹاخہ چلنے پر بریکنگ نیوز چلانے والے ٹی وی چینلز میں سے کسی ایک نے بھی ایک ٹکر تک نہیں چلایا ۔ پرنٹ میڈیا میں صف اول کے اخبارات نے بھی اس کی کوریج نہ کرکے ثابت کیا کہ میڈیا آزاد نہیں بلکہ اب بھی پابند ہی ہے ۔ یہی حادثہ اگر بحریہ انکلیو کی بجائے کہیں اور ہوا ہوتا تو پھر لوگ ٹی وی چینلز کی پھرتیاں دیکھتے ۔ یہ نام نہاد آزاد میڈیا کے لئے شرم کا مقام ہے کہ اس نے ایک ایسے واقعہ کو رپورٹ نہیں کیا جس میں پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے اہلکار عدنان کی فیملی کے افراد بھی زخمی ہوئے ۔ ان کی اہلیہ کی ریڑھ کی ہڈی کافی متاثر ہوئی انہیں پمز ہسپتال لے جایا گیا مگر وہ جانبر نہ ہوسکیں اور انتقال کر گئیں اس کے علاوہ جی سکس سے بھی ایک فرد کے مرنے اطلاعات ہیں جو اسی حادثے میں شدید زخمی ہوا تھا ۔ ۴ افراد کی حالت انتہائی تشویش ناک ہے ۔ جبکہ شدید زخمی مرد ،خواتین ، اور بچوں کی تعداد سو سے زیادہ ہے ۔اک عینی شاہد ایس خان کے مطابق انکو کم از کم ۲۰ فٹ اور بٹھایا گیا جہاں سے گرنے کے بعد کیا حالت ہوگی اس کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ ایس خان ، انکے والد اور والدہ تینوں زخمی ہیں ۔۔ یہ بات بھی حیران کن ہے کہ جب خواتین اور بچے طبی مدد کے لئے پکار رہے تھے تو منتظمین نے لائیٹیں بند کر دیں تاکہ کوئی ویڈیو نہ بنا سکے ۔خبر ہے کہ بحریہ ٹاون نے اے آر وائی سے ان ناقص انتظامات کی وضاحت طلب کی ہے ۔

423 total views, 4 views today

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *