شاعری

جب تم سے ملاقات کی صورت نہیں ہوتی

جب تم سے ملاقات کی صورت نہیں ہوتی جینے کی مجھے کوئی ضرورت نہیں ہوتی پتھر کی طرح ہے، وہ کسی راہ گزر میں جس دل میں مری جان، محبت نہیں ہوتی دن میرا گزرتا ہے، تری راہ کوتکتے راتوں کو تری یاد سے، فرصت نہیں ہوتی وہ گھر ، کسی ویران جزیرے کی طرح

ہوکے آہواں بھردی پئی آں

ہوکے آہواں بھردی پئی آں غماں دی اگ وچ سڑنی پئی آں وچھڑن والا تاں وچھڑ گیا اے ہن کاہدے توں ڈرنی پئی آن زخماں بھریا اے دل میرا نال دُکھاں دے لڑنی پئی آں یاداں اوہدیاں بہت ستاون بن اہدے کی مرنی پئی آن جاون والا تے ٹر گیا اے اڈیاں کانوں پھڑنی پئی

اپریل فول ۔۔ اپریل فول ۔۔

شاعری : اشفاق بن اعجاز اپریل فول ۔۔ اپریل فول ۔۔ طشنام گری کا نیا اصول ۔۔ ھادی نے فرمایا تھا ۔۔ پاٹ ہمیں سکھلایا تھا ۔۔ بولے جھوٹ بہتان بازی ۔۔ نہیں سچا وہ میرا ساتھی ۔۔ پشت پہ ڈال کے ھادی کو ۔۔ سب کچھ بیٹھے ہم تو بھول ۔۔ اپریل فول ۔۔۔

محبت آزماؤ گے؟

محبت آزماؤ گے؟؟؟ ابھی تم نے کہا نا ! کہ “محبت آزماؤ گے!!!” چلو اب یہ بھی بتلا دو کہ کیسے آزماؤ گے؟ سُنو! تم طفلِ اُلفت ہو! تمہیں معلوم ہی کیا ہے؟ محبت کِس کو کہتے ہیں، محبت کیسے ہوتی ہے؟ تمہیں بس یہ پتا ہے کہ، “محبت مر نہیں سکتی، محبت باتیں کرتی

بے ؔ نظیرکی نذر

( ان کی برسی کے موقع پر کہی گئی ۔) پروفیسر حکیم محمد شفیق کھوکھر۔ وہ دختر وطن تھی ، وہ بے نظیر تھی آمر کی موت لائے جو ایسا وہ تیر تھی جمہوریت کے پودے کو سینچاہے خون سے منزل کا جو نشان دے ایسی لکیر تھی ظالم کے آگے ڈھال تھی فولاد کی

غزل (خالد راہی)

تمھارے قلم سے نکل کر نکھر جائینگے پتیوں سے ہم قرطاس پر بکھر جائینگے​ سیاہی درد و علم کا نچوڑ ہے تمھاری لوگ پہچان ہی لینگے لفظ جدھر جائینگے تیز ہوائوں کی نظر ہوگئے نقش پا تمھارے یہ قافلے سارے کے سارے ٹھر جائینگے گردش حالات کی گرد میں اٹی ہے زندگی یہ سہل آراستہ

ہو ا ہے تماشا

ہو ا ہے تماشا ہم بھی دیکھ آئیں کو ن جیتا اور کون ہارا اقتدار کی رسہ کشی نہ تو جیتا اور نہ وہ ہارا ٹرک بھی ہوے سرمشار لوگ ہوے خوار زندگی ہوی بیزار مزدور ہوا بیروزگار نہ تو مانا اور نہ وہ اقتدار ہو ا مزیدار بس کر پپو یار (عثمان غنی)

سانحہ ماڈل ٹاون کے بعد

سانحہ ماڈل ٹاون کے بعد بے گناہوں کے خون کے بعد زوال تام لکھا ہے سر عام لکھا ہے کشتیاں جو لڑھکنے لگی ہیں کرسیاں جو سرکنے لگی ہیں حیرت کیوں اس پر کہ نظام فطرت ہے جو بونا ہے وہ لینا ہے جو کرنا ہے وہ بھرنا ہے زوال تام لکھا ہے سر عام

اتنا صبر کہاں سے لاؤں

اتنا صبر کہاں سے لاؤں ۔۔۔۔ ہوائوں میں خوشبو گلوں میں رنگ تیرا اتنا صبر کہاں سے لاؤں رخسار پر بارش کے قطرے زلفوں کو اڑا تی ہوائیں اتنا صبر کہاں سے لاؤں دو کلیوں کا ہلنا دو دلوں کا مچلنا اتنا صبر کہاں سے لاؤں جاگتے خواب دیکھنا نقاب کا رخ سے سرکنا اتنا

شائد یہی محبت ہے

تری ان کہی باتوں کو تری آنکھوں سے ترے آنکھ جھپکنے سے پہلے ترے لبوب سے ترے بولنے سے پہلے میں جان جاتا ہوں شائد یہی محبت ہے