Daily Archives: April 14, 2017

معافی

دنیا میں موجود اشرف المخلوقات اصولی طور پر ادم کی اولاد کہلاتی ہے اور ادم کی اولاد ہونے کے ناطے خطا کے پتلے بھی کہلائے جاتے ہیں اور دنیا کے ہر ادیان میں برائی اور بدی کو اچھا تصور نہیں کیا جاتا ہے اور اس بدی اور برائی کے ازالے کے لئے بھی حضرت انسان

بزرگ کی نصیحتیں

ایک شخص بہت ہی غریب تھا۔ اس نے اپنی بیوی سے مشورہ کیا کہ کسی رئیس آدمی کے ہاں غلامی کی جائے تاکہ یہ غربت دور ہو سکے۔ اسکی بیوی نے اجازت دے دی۔ اسکی بیوی کے ہاں ابھی پہلا بیٹا ہی پیدا ہونے والا تھا کہ وہ غریب آدمی اپنی بیوی کو بھری جوانی

سم قاتل

ڈاکٹر جمیل اپنی لیبارٹری میں کام میں مگن تھا سوچ و بچار نے اس کے ماتھے کی شکنوں میں اضافہ کر دیا تھا اس نے بیس سال کی طویل جدوجہد اور ریسرچ سے ایک ایسی دوا ایجاد کر لی تھی جو خلیات میں حیران کن تبدیلی لانے والی تھی اس کی تحقیق مکمل ہو چکی

ہنی سارا

گلگت کی تاریخ میں دو قدیم نام امسار اور ہنی سارا ملتے ہیں ۔کہا یہ جاتا ہے کہ موجودہ نوپورہ کا قدیم نام امسار تھا اور نوپورہ حکمرانوں کے لئے مخصوص تھا اور یہاں رہنے والے حکمرانوں کو اسی نسبت سے امساری میر کہا جاتا تھا۔اس بارے راقم نے الگ سے ایک تحریر لکھی ہوئی

اَدھوری محبت

یہ جون 2014 کی ایک شام تھی جب میری بیوی نے شام کی چائے پر مجھے بتایا کہ آج ہمارے گھر ایک مہمان آ رہی ہے اور کچھ دن وہ ہمارے گھر رہے گی۔ میرے مزید استفار پر اُس نے بتا یا کہ آج میری خالہ زاد کا فون آیا تھا ۔اس نے مزکورہ لڑکی

وطن کاگیت

اے پیارے وطن تیری ہرچیزپیاری ہے دیکھوجشن آزادی کی ہرگھرمیں تیاری ہے پرچم کاسماں آیا جھنڈیوں کی بہارآئی پرچم لہراتے ہیں خواہ گھرہویاگاڑی ہے جب ماہِ اگست آئے فورٹی سیون(1947)پلٹ آئے بدلہ خون شہیدوں کا یہ دھرتی ساری ہے ہرفردپہ لازم ہے احترام آزادی کا جس کی خاطرلاکھوں نے جان اپنی واری ہے سب شکربجالاؤ

اُسی کے نور سے ہم انحراف کر بیٹھے

کبھی غرور پہ ہم اعتراف کر بیٹھے محبتوں سے کبھی اختلاف کر بیٹھے کبھی دھنک کے بدن پر لحاف کر بیٹھے کبھی مہک کی روش پر غلاف کر بیٹھے ہمارے چہرے پڑھے انکشاف کر بیٹھے اُن آئینوں کی خرد پر شگاف کر بیٹھے یہ خاکِ جسم کریدا تو دل ملا آخر اُسے بھی خاک میں

مجھے خط ملا ہے غنیم کا

مجھے خط ملا ہے غنیم کا بڑی عجلتوں میں، لکھا ہوا کہیں۔۔ رنجشوں کی کہانیاں کہیں دھمکیوں کا ہے سلسلہ مجھے کہہ دیا ہے امیر نے کرو۔۔۔۔حسنِ یار کا تذکرہ تمہیں کیا پڑی ہے کہ رات دن کہو۔۔۔۔ حاکموں کو برا بھلا تمہیں۔۔۔۔ فکر عمر عزیز ہے تو نہ حاکموں کو خفا کرو جو امیرِ

کہنے کو مرے ساتھ دغا بھی نہیں کرتا

کہنے کو مرے ساتھ دغا بھی نہیں کرتا وہ شخص مگر وعدہ وفا بھی نہیں کرتا دریا کے کناروں کی طرح ساتھ ہے میرے ملتا وہ نہیں ہے تو جدا بھی نہیں کرتا آئینے وہ احساس کے سب توڑ چکا ہے کس حال میں ہوں میں یہ پتہ بھی نہیں کرتا پوجا ہے تجھے جیسے

نعت شریف

ہے کیسے دنیامیں تیری جینایہ میں نے اپنے نبیؐ سے سیکھا ہے تلخ باتوں کوکیسے پینایہ میں نے اپنے نبیؐ سے سیکھا زمانے بھرکے فلاسفہ توہیں جی کے مرناہی بس سیکھاتے ہے کیسے مرنے کے بعدجینایہ میں نے اپنے نبیؐ سے سیکھا ہے کیسے اوروں کوزخمی کرنایہ گرتوسارازمانہ جانے ہے کیسے اوروں کے زخم سینایہ